السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. -- باب: الوضوء من الدم يخرج من أحد السبيلين وغير ذلك من دود أو حصاة أو غيرهما
-- باب: سبیلین (پیشاب اور پاخانے کے راستوں) میں سے کسی ایک سے خون، یا اس کے علاوہ کیڑے، پتھری یا کسی اور چیز کے نکلنے سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، ⦗١٨٧⦘ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي فَصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ دُونَ قَوْلِهِ:" وَتَوَضَّئِي". ثُمَّ قَالَ مُسْلِمٌ: وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ زِيَادَةُ حَرْفٍ تَرَكْنَا ذِكْرَهُ، وَهَذَا لِأَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ، إِنَّمَا الْمَحْفُوظُ مَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ: قَالَ هِشَامٌ: قَالَ أَبِي: ثُمَّ تَوَضَّأْ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ لیا کہ مجھے استحاضہ آتا ہے اور میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز کو چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رگ سے ہے حیض نہیں ہے، جب یہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب بند ہو جائے تو خون کے نشان کو دھو اور وضو کر کے نماز ادا کر۔ یہ رگ سے ہے حیض نہیں ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں «تَوَضَّئِي» ”تم وضو کرو“ کے الفاظ نہیں ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث حماد بن زید میں الفاظ زیادہ ہیں، ہم نے اس کو روایت نہیں کیا اور یہ زیادتی محفوظ بھی نہیں ہے۔
(ج) ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہ (حیض کا) وقت آ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 565]
(ب) صحیح مسلم میں «تَوَضَّئِي» ”تم وضو کرو“ کے الفاظ نہیں ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث حماد بن زید میں الفاظ زیادہ ہیں، ہم نے اس کو روایت نہیں کیا اور یہ زیادتی محفوظ بھی نہیں ہے۔
(ج) ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہ (حیض کا) وقت آ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 566
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِهَا، وَتَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي". وَهَذَا الْحَدِيثُ نَذْكُرُ بَعْضَ مَا قِيلَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الْحَيْضِ.
عدی بن ثابت اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استحاضہ والی عورت اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزے رکھے اور نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 567
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْوُضُوءُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ الْأَعْمَشُ مَرَّةً: وَالْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ:" إِنَّمَا الْوُضُوءُ مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ، وَإِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ، وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ. وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْ قَوْلِهِ. وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَثْبُتُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس کھانا کھانے کے بعد وضو کا ذکر کیا گیا۔ ایک مرتبہ اعمش نے یہ بھی کہا: اور روزے دار کے سینگھی لگوانے کا (ذکر کیا گیا)، تو انہوں نے فرمایا: وضو نکلنے والی چیز سے ہے، داخل ہونے والی چیز سے نہیں ہے اور روزے کا ٹوٹنا داخل ہونے والی چیز سے ہے، نکلنے والی چیز سے نہیں ہے۔
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے، لیکن ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 567]
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے، لیکن ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه عبد الرزاق 653»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 568
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗١٨٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ يَعْنِي مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوُضُوءُ مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ". وَرُوُّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَتَوَضَّأُ فَيَخْرُجُ الدُّودُ مِنْ دُبُرِهِ، قَالَ:" عَلَيْهِ الْوُضُوءُ" وَكَذَلِكَ قَالَ الْحَسَنُ وَجَمَاعَةٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو نکلنے والی چیز سے ہے، داخل ہونے والی چیز سے نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «موضوع۔ أخرجه ابو نعيم في الحلية»
الحكم على الحديث: موضوع