🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

140. -- باب: ترك الوضوء من النوم قاعدا
-- باب: بیٹھ کر سونے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نا أَبُو دَاودَ، نا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، نا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ، ينْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ، ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ" قَالَ أَبُو دَاودَ: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز کا انتظار کرتے اور نیند سے ان کے سر جھک جاتے، پھر وہ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے قتادہ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا فعل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 386»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا تَمْتَامٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَنَامُونَ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ، وَلَا يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور نماز ادا کرتے۔ یہ حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (بھی اس سے) وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/130»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا ابْنُ حُمَيْدٍ يَعْنِي مُحَمَّدًا، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يُوقَظُونَ لِلصَّلَاةِ حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ لَأَحَدِهِمْ غَطِيطًا، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ". قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: هَذَا عِنْدَنَا وَهُمْ جُلُوسٌ، وَعَلَى هَذَا حَمَلَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَالشَّافِعِيُّ، وَحَدِيثَاهُمَا فِي ذَلِكَ مُخَرَّجَانِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ ان کو نماز کے لیے بیدار کیا جاتا تھا اور میں ان کے خراٹے کی آواز سنتا، پھر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 616»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاودَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاودَ بْنِ شَبِيبٍ، قَالَا: نا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، وَلَمْ يذْكُرْ وُضُوءًا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ دُونَ قَوْلِهِ: وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عشا کی نماز کھڑی ہوئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرتے رہے اور لوگوں کو یا کسی ایک کو اونگھ آگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) صحیح مسلم میں «وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 40»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ سَمْعَانَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ".
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن أبي شيبة»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنَ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمْ يرْفَعْهُ. قَالَ:" مَنْ نَامَ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ، وَإِنِ اضْطَجَعَ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ". وَرُوُّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً منقول ہے کہ جو شخص بیٹھ کر سو جائے اس کا وضو (باقی) ہے، اگر لیٹ جائے تو اس پر وضو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، نا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءِ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ جَالِسًا أَخْفِقُ فَاحْتَضَنِّي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ وَجَبَ عَلَيَّ وَضُوءٌ؟ قَالَ:" لَا، حَتَّى تَضَعَ جَنْبَكَ". وَهَذَا الْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءُ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں اس حال میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا سر (نیند کی وجہ سے) جھک جاتا تھا، پیچھے سے ایک شخص نے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ پر وضو ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تیرا پہلو نہ جھکے۔“
اس حدیث کو میمون خیاط سے صرف بحر بن کنیز سقاء نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن عدي 2/54»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں