السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
143. -- باب: الوضوء من الملامسة
-- باب: عورت کو چھونے (ملامسہ) سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: Q605
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: ٤٣] وَاسْمُ اللَّمْسِ يَقَعُ عَلَى مَا دُونَ الْجِمَاعِ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ، وَنَهْيُهُ عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ، وَقَوْلُهُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ:" وَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ". وَقَوْلُ عَائِشَةَ: قَلَّ يَوْمًا أَوْ مَا كَانَ مَنْ يوْمٍ إِلَّا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ مَا دُونَ الْوِقَاعِ. وَهَذِهِ الْأَحَادِيثِ بِأَسَانِيدِهِنَّ مُخَرَّجَةٌ فِي مَوَاضِعِهِنَّ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ ”یا تم عورتوں کو چھو لو۔“ [سورة النساء: 43]
اور لفظ «اللَّمْسُ» (چھونا) کا اطلاق جماع کے علاوہ دیگر افعال پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے «الْمُلَامَسَةِ» (چھو کر بیع کرنے) کی ممانعت ہے،
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ”اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے۔“
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: ”شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس تشریف نہ لائے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور جماع کے بغیر چھوتے تھے۔“
اور یہ تمام احادیث اپنی سندوں کے ساتھ اپنے اپنے مقامات پر تخریج کی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: Q605]
اور لفظ «اللَّمْسُ» (چھونا) کا اطلاق جماع کے علاوہ دیگر افعال پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے «الْمُلَامَسَةِ» (چھو کر بیع کرنے) کی ممانعت ہے،
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ”اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے۔“
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: ”شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس تشریف نہ لائے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور جماع کے بغیر چھوتے تھے۔“
اور یہ تمام احادیث اپنی سندوں کے ساتھ اپنے اپنے مقامات پر تخریج کی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: Q605]
حدیث نمبر: 605
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، نا جَدِّي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بوسہ، چھونے کی طرح ہے، لہٰذا تم اس سے وضو کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لغيرهٖ أخرجه الحاكم 1/229»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 606
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ:" فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: ٤٣] قَوْلًا مَعْنَاهُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے اس فرمان ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ [سورة النساء: 43] کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ اس کا معنی جماع کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/221»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 607
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" الْقُبْلَةُ مِنَ اللَّمْسِ وَمِنْهَا الْوُضُوءُ، وَاللَّمْسُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ" هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بوسہ چھونے سے ہے اور اس میں وضو ہے اور «اللَّمْسُ» جماع کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنَ الْمُلَامَسَةِ، فَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ. فَهَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ. وَخَالَفَهُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَحَمَلَ الْمُلَامَسَةَ الْمَذْكُورَةَ فِي الْكِتَابِ الْعَزِيزِ عَلَى الْجِمَاعِ، وَلَمْ يرَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءًا.
(الف) سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بیوی کو بوسہ دینا اور اس کے جسم کو اپنے ہاتھ سے چھونا «مُلَامَسَة» میں سے ہے، اور جو شخص اپنی بیوی کو بوسہ دے یا ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے۔
(ب) ابن بکیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس پر وضو واجب ہے۔
(ج) یہ قول سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کتاب اللہ میں مذکور «مُلَامَسَة» کو جماع پر محمول کیا ہے اور وہ بوسہ لینے سے وضو کے قائل نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 608]
(ب) ابن بکیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس پر وضو واجب ہے۔
(ج) یہ قول سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کتاب اللہ میں مذکور «مُلَامَسَة» کو جماع پر محمول کیا ہے اور وہ بوسہ لینے سے وضو کے قائل نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 95»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا اللَّمْسَ فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمَوَالِي: لَيْسَ مِنَ الْجِمَاعِ. وَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ: هِيَ مِنَ الْجِمَاعِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" مَعَ أَيِّهِمْ كُنْتَ؟" قُلْتُ: مَعَ الْمَوَالِي. قَالَ:" غُلِبَتِ الْمَوَالِي إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمُبَاشَرَةَ مِنَ الْجِمَاعِ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَقَوْلُ مَنْ يُوَافِقُ قَوْلُهُ ظَاهِرُ الْكِتَابِ أَوْلَى".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے «اللَّمْسِ» (چھونے) کا ذکر کیا تو موالی میں سے بعض لوگوں نے کہا: یہ جماع نہیں ہے اور اہل عرب نے کہا: یہ جماع ہے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: تم کن کے ساتھ ہو؟ میں نے کہا: موالی کے ساتھ، تو انہوں نے فرمایا: موالی کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیشک چھونا اور مباشرت کرنا جماع میں سے ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کنایہ ذکر کیا جس سے اس نے چاہا۔ ان کا قول ظاہری کتاب کے موافق ہونے میں زیادہ اولیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 610
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: نا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْكَ وَسَلَّمَ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِلَّا وَقَدْ أَصَابَهُ مِنْهَا إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا؟ ⦗٢٠٠⦘ فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وُضُوءًا حَسَنًا، ثُمَّ قُمْ فَصَلِّ". قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] الْآيَةَ. فَقَالَ: أَهِيَ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ:" بَلْ هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً". وَهَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ. وَفِيهِ إِرْسَالٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو ایسی عورت پر واقع ہوا جو اس کے لیے حلال نہیں ہے اور اس نے جماع کے سوا ہر کام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح وضو کرے پھر کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] ، پوچھا گیا: یہ اس کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔“
اس کی سند میں ارسال ہے، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 610]
اس کی سند میں ارسال ہے، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون أمره بالوضوء، اخرجه الحاكم 1/229»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 611
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، نا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثَ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ. عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا، زَعَمَ أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا۔
(ب) سفیان ثوری اس روایت کو زیادہ جانتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ حبیب نے عروہ سے سماع نہیں کیا۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں: حبیب نے ہمیں صرف عروہ مزنی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 611]
(ب) سفیان ثوری اس روایت کو زیادہ جانتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ حبیب نے عروہ سے سماع نہیں کیا۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں: حبیب نے ہمیں صرف عروہ مزنی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 178»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 612
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ، ثُمَّ لَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ"، وَقَالَتْ:" ثُمَّ يُصَلِّي". فَهَذَا مُرْسَلٌ. إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، قَالَهُ أَبُو دَاودَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ وَأَبُو رَوْقٍ لَيْسَ بِقَوِيٍّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ. وَرَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصَةَ. وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ وَلَا مِنْ حَفْصَةَ. قَالَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ، وَقَدْ رُوِّينَا سَائِرَ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَبَيَّنَّا ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ ⦗٢٠٢⦘ عَنْ عَائِشَةَ فِي قُبْلَةِ الصَّائِمِ، فَحَمَلَهُ الضُّعَفَاءُ مِنَ الرُّوَاةِ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْهَا وَلَوْ صَحَّ إِسْنَادُهُ لَقُلْنَا بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے بعد بوسہ لے لیا کرتے تھے، پھر دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر نماز پڑھتے تھے (یہ روایت مرسل ہے)۔
(ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ج) امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے، بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 612]
(ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ج) امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے، بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/141»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ