السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
207. -- باب: النهي عن الإسراف في الوضوء
-- باب: وضو میں پانی کے اسراف (فضول خرچی) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 947
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَرْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا فَقَالَ: يَا بُنِيَّ سَلِ اللهَ الْجَنَّةَ، وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطُّهُورِ وَالدُّعَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! میں آپ سے سفید محل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کے دائیں جانب ہے جب میں اس (جنت) میں داخل ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اللہ سے جنت کا سوال کر اور آگ سے پناہ مانگ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”عنقریب میری امت میں ایسی قوم ہوگی جو وضو اور دعا میں زیادتی کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 96»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 948
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ فَاحْذَرُوهُ - أَوْ قَالَ - فَاتَّقُوهُ". وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي دَاوُدَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" فَاحْذَرُوهُ وَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ".
(الف) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک وضو کا بھی شیطان ہے جس کو «وَلْهَانُ» کہا جاتا ہے، اس سے بچو“ یا فرمایا: ”اس سے ڈرو۔“
(ب) ایک روایت میں ہے: ”اس سے بچو اور پانی کے وسوسہ سے ڈرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 948]
(ب) ایک روایت میں ہے: ”اس سے بچو اور پانی کے وسوسہ سے ڈرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الترمذي 57»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 949
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ جَمِيلٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ ⦗٣٠٤⦘ وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنْ عُتِيِّ بْنِ ضَمْرَةَ. وَهَذَا الْحَدِيثُ مَعْلُولٌ بِرِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الْحَسَنِ، بَعْضُهُ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، وَبَاقِيهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ.
ابوداؤد نے اسی طرح بیان کیا ہے (ب) اور فرمایا کہ اس کی سند میں عتی بن ضمرہ ہے اور یہ حدیث معلول ہے، ثوری کے حسن سے روایت کرنے کی وجہ سے اور اس کا بعض حصہ مرفوع نہیں اور باقی حصہ یونس بن عبید سے بھی مرفوع نہیں۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «ضعيف جًدا»
الحكم على الحديث: ضعيف جًدا
حدیث نمبر: 950
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:" شَيْطَانُ الْوُضُوءِ يُدْعَى الْوَلَهَانُ يَضْحَكُ بِالنَّاسِ فِي الْوُضُوءِ". وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّ لِلْمَاءِ وَسْوَاسًا فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ. وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: فِي كُلِّ شَيْءٍ إِسْرَافٌ حَتَّى الطُّهُورِ وَإِنْ كَانَ عَلَى شَاطِئِ النَّهْرِ. هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ، وَخَارِجَةُ يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ مُسْنَدًا وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الرِّوَايَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، مَرْفُوعًا يَعْنِي مَا رُوِّينَا عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ.
(الف) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”وضو کا ایک شیطان ہے جس کو «وَلْهَانُ» کہا جاتا ہے“، یہ وضو میں لوگوں کو ہنساتا ہے۔
(ب) یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پانی کے لیے وسوسہ ہے، لہٰذا ”پانی کے وسوسے سے بچو۔“
(ج) ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ہر چیز میں اسراف ہے، یہاں تک کہ وضو میں بھی ہے، اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔“
(د) اسی طرح خارجہ بن مصعب کے علاوہ بھی دوسروں نے حسن رحمہ اللہ اور یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ خارجہ اپنی سند سے روایت کرنے میں منفرد ہے، وہ روایت کرنے میں مضبوط راوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، یعنی وہی جو ہم نے یونس بن عبید سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 950]
(ب) یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پانی کے لیے وسوسہ ہے، لہٰذا ”پانی کے وسوسے سے بچو۔“
(ج) ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ہر چیز میں اسراف ہے، یہاں تک کہ وضو میں بھی ہے، اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔“
(د) اسی طرح خارجہ بن مصعب کے علاوہ بھی دوسروں نے حسن رحمہ اللہ اور یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ خارجہ اپنی سند سے روایت کرنے میں منفرد ہے، وہ روایت کرنے میں مضبوط راوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
یہ روایت ایک اور ضعیف سند سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے، یعنی وہی جو ہم نے یونس بن عبید سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن أبي الدنيا في مصائد الشيطان 29»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَائِينِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُصَيْنٍ الْأَصْبَحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ، فَإِنَّ لِلْمَاءِ وَسْوَاسًا وَشَيْطَانًا".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کے وسوسے سے بچو، بلاشبہ پانی کے لیے وسوسہ اور شیطان ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف