السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
210. -- باب: كون الستر أفضل وإن كان خاليا
-- باب: تنہائی میں بھی پردہ کرنے کے افضل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 960
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ⦗٣٠٧⦘ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ:" احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ" فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، قَالَ:" إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا" قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنَ النَّاسِ". ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ مُخْتَصَرًا قَالَ: وَقَالَ بَهْزٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحَى مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
(الف) بہز بن حکیم اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اپنے بدن کے کون سے حصے کو چھپائیں اور کس کو چھوڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر مگر اپنی بیوی سے یا اپنی لونڈی سے۔“ میں نے کہا: مجھے بتائیں اگر سب ایک جنس سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے کہ کوئی بھی نہ دیکھے تو یہ بہتر رہے۔“ میں نے کہا: مجھے بتلائیں جب کوئی اکیلا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں سے زیادہ اس سے حیا کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 960]
(ب) ایک روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں سے زیادہ اس سے حیا کی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 4017»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 961
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَغْتَسِلُوا فِي الصَّحْرَاءِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مُتَوَارًى، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مُتَوَارًى فَلْيَخُطَّ أَحَدُكُمْ خَطًّا كَالدَّارَةِ، ثُمَّ يُسَمِّي اللهَ تَعَالَى، وَيَغْتَسِلُ فِيهَا" أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھلی جگہ میں غسل نہ کرو۔ وہاں اگر تم چھپنے کی جگہ نہ پاؤ تو گھر کی مانند خط کھینچ لو پھر اللہ کا نام لو اور اس میں غسل کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه المؤلف في شعب الايمان 7785»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 962
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَقُرْبُهُ إِنْسَانٌ لَا يَنْظُرْ إِلَيْهِ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُ يُكَلِّمُهُ".
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ہرگز غسل نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے قریب کوئی ایسا انسان ہو جو اسے دیکھ نہ رہا ہو، اور وہ اس کے قریب رہ کر اس سے بات کرتا رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف