السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
216. -- باب: الجنب يريد الأكل
-- باب: اس جنبی کا بیان جو کھانے کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَوَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالتِ جنابت میں ہوتے اور آپ کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ"،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حالت جنابت میں کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 223»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 980
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ:" غَسَلَ يَدَيْهِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
(الف) محمد بن صباح بزاز اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو دھوتے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن وہب رحمہ اللہ نے یہ روایت یونس رحمہ اللہ سے نقل کی ہے جس میں ہے کہ کھانے کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ روایت لیث بن سعد رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 980]
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن وہب رحمہ اللہ نے یہ روایت یونس رحمہ اللہ سے نقل کی ہے جس میں ہے کہ کھانے کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ روایت لیث بن سعد رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 980]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣١٣⦘ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ" قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ إِنْ شَاءَ". وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرُ هَذَا وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو سونے سے پہلے نماز جیسا وضو کرتے اور جب آپ کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو دھوتے، پھر کھاتے اور اگر چاہتے تو پیتے تھے۔
اس سند کے بارے میں اس کے علاوہ بھی کہا گیا ہے، اور اسود کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 981]
اس سند کے بارے میں اس کے علاوہ بھی کہا گیا ہے، اور اسود کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 6/118»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سَفَرٍ فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَلَمْ يَبَشَّ بِي، وَقَالَ:" اذْهَبْ وَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ" فَغَسَلْتُهُ عَنِّي فَجِئْتُهُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَلَمْ يَبَشَّ بِي وَقَالَ:" اذْهَبْ وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا" فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ، وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ، وَلَا الْجُنُبَ، وَرُخِّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ".
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے زعفران لگا دی، جب میں نے صبح کی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے آپ سے دھو دے۔“ میں نے اپنے سے اس کو دھویا اور اس کا کچھ نشان باقی تھا۔ میں نے آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے مجھے مرحبا نہیں کہا اور نہ آپ میرے ساتھ خوش ہوئے اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے سے دھو دے۔“ میں نے پھر اپنے سے اس کو دھویا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور مجھے مرحبا کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے بھلائی کے ساتھ کافر کے جنازے میں حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس جس کو زعفران لگی ہو اور نہ جنبی کے پاس“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو یہ رخصت دی ہے کہ جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4176»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 983
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ" وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ، وَابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَالْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ.
حماد نے اسی سند سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ ”جب وہ کھائے یا پیے یا سوئے تو وضو کرے“ اور قصہ ذکر نہیں کیا۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر کے درمیان ایک اور شخص ہے۔
(ج) علی رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 983]
(ج) علی رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4601»
الحكم على الحديث: ضعيف