السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
245. -- باب: المسافر يتيمم في أول الوقت إذا لم يجد ماء ويصلي ثم لا يعيد وإن وجد الماء في آخر الوقت
-- باب: مسافر کا پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کر کے نماز پڑھنے اور آخر وقت میں پانی مل جانے پر بھی اسے نہ دہرانے کا بیان
حدیث نمبر: 1094
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ:" أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ" وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ:" لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ" وَرَوَاهُ غَيْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے کہ نماز کا وقت ہو گیا، ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز کا وقت باقی ہوتے ہوئے پانی پا لیا۔ ایک نے دوبارہ وضو کر کے نماز لوٹائی اور دوسرے نے نہیں، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے اور تجھ کو تیری نماز کافی ہے“ اور اس شخص سے کہا جس نے وضو کیا اور دوبارہ نماز لوٹائی: ”تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔“
عبداللہ بن نافع کے علاوہ دوسروں نے اسے لیث سے، انہوں نے عمیرہ بن ابی ناجیہ سے، انہوں نے بکر بن سوادہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1094]
عبداللہ بن نافع کے علاوہ دوسروں نے اسے لیث سے، انہوں نے عمیرہ بن ابی ناجیہ سے، انہوں نے بکر بن سوادہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد 338»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بَكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، فَذَكَرَهُ كَذَا فِي كِتَابِي عُمَيْرٌ وَالصَّوَابُ عَمِيرَةُ بْنُ أَبِي نَاجِيَةَ..
حضرت عمیرہ بن ابی ناجیہ رحمہ اللہ نے اسے نقل کیا ہے، میری کتاب میں اسی طرح ”عمیر“ لکھا ہے اور درست یہ ہے کہ وہ عمیرہ بن ابی ناجیہ رحمہ اللہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/287»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: ذِكْرُ أَبِي سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَهْمٌ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَفِيهِ اخْتِلَافٌ ثَالِثٌ.
(الف) ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ابو سعید رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم ہے، وہ محفوظ نہیں بلکہ مرسل ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں ایک تیسرا اختلاف بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1096]
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں ایک تیسرا اختلاف بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1097
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور پھر اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 339»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" تَيَمَّمَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ مَنَ الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَقَدِمَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلَاةَ".
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تیمم کیا، عصر کی نماز پڑھی اور تشریف لے آئے، جب کہ سورج بلند ہو چکا تھا اور نماز دوبارہ نہیں لوٹائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/289»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّا، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مَنَ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مَنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ مَنْ ⦗٣٥٤⦘ أَقَاوِيلِهِمْ وَفِيهَا وَكَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ تَيَمَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ وَجَدَ الْمَاءَ وَهُوَ فِي وَقْتٍ أَوْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ لِمَا يُسْتَقْبَلُ مَنَ الصَّلَوَاتِ وَيَغْتَسِلُ، وَالتَّيَمُّمُ مَنَ الْجَنَابَةِ وَالْوُضُوءُ سَوَاءٌ" وَرُوِّينَاهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ.
عبد الرحمن بن ابی الزناد اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کئی فقہاء کو دیکھا جو اسی کے قائل تھے، ان میں سے سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور مدینہ کے سات فقہاء رحمہم اللہ اور کچھ اور لوگ تھے جو کہتے تھے: جس نے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر پانی پایا اور نماز کا وقت تھا یا ختم ہو چکا تھا، بہرحال اس پر نماز کا لوٹانا واجب نہیں ہے، وہ اگلی نمازوں کے لیے وضو کرے گا اور غسل کرے گا اور جنابت سے تیمم اور وضو کرنا برابر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 339»
الحكم على الحديث: ضعيف