السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
262. -- باب: سؤر الهرة
-- باب: بلی کے جھوٹے کا بیان
حدیث نمبر: 1159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: وَثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ:" أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ" هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَدْ قَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِرِوَايَتِهِ فَلَمْ يُقِمْ إِسْنَادَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: جَوَّدَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَرِوَايَتُهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ غَيْرِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ بِقَرِيبٍ مِنْ رِوَايَةِ مَالِكٍ.
سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا، جو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی بیوی تھیں، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا، اتنے میں بلی آئی اور اس سے پینے لگی۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے خوب پیا۔ سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (بلّی) نجس نہیں ہے، وہ تمہارے پاس چکر لگاتی رہتی ہے۔“
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے موطا میں اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ بعض راویوں نے اس کی روایت میں کوتاہی کی اور اس کی سند درست بیان نہیں کی۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک بن انس نے اس حدیث کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے اور ان کی روایت دوسروں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1159]
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے موطا میں اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ بعض راویوں نے اس کی روایت میں کوتاہی کی اور اس کی سند درست بیان نہیں کی۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک بن انس نے اس حدیث کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے اور ان کی روایت دوسروں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1159]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 75»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1160
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ خَالَتِهَا بِنْتِ كَعْبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءَهُ فَدَنَا الْهِرُّ فَأَصْغَى إِلَيْهِ الْإِنَاءَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ بِفَضْلِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ:" كَأَنَّكِ تَعْجَبِينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ بِنَجَسٍ - أَوْ كَلِمَةٍ أُخْرَى - إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" أُمُّ يَحْيَى هِيَ حُمَيْدَةُ وَابْنَةُ كَعْبٍ هِيَ كَبْشَةُ بِنْتُ كَعْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ.
ام یحییٰ اپنی خالہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے ان کے قریب پانی رکھا، اتنے میں ایک بلی آئی تو انہوں نے برتن جھکا دیا، بلی نے اس سے پیا، پھر وہ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، میں نے آپ کی طرف تعجب سے دیکھا، انہوں نے میری طرف جھانکا تو کہنے لگے: کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ (بلّی) نجس نہیں ہے“ یا کوئی دوسرا لفظ کہا، ”وہ تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1160]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1161
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ح. قَالَ: وَأنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ يَحْيَى - قَالَ حَجَّاجٌ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي امْرَأَتَهُ - عَنْ خَالَتِهَا وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ فَسَأَلَ الْوَضُوءَ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ كَأَنِّي أُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ فَقَالَتْ: يَا ابْنَةَ أَخِي إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ" وَفِي حَدِيثِ الْحَوْضِيِّ أَنَّ خَالَتَهَا حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ فَدَخَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا تُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ، ثُمَّ الْبَاقِي مِثْلَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
(الف) ایک عورت اپنی خالہ سے نقل فرماتی ہے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں کہ میرے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے پانی مانگا، اتنے میں ان کے پاس سے بلی گزری تو آپ نے برتن جھکا دیا، میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا میں اس کا انکار کر رہی تھی تو انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: وہ نجس نہیں ہے وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، عبداللہ بن ابی قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی، باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1161]
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، عبداللہ بن ابی قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی، باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1161]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1162
وَأَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ هَمَّامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ فَمَرَّتْ بِهِ هِرَّةٌ فَأَصْغَى إِلَيْهَا وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ" وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ وضو کر رہے تھے، ایک بلی گزری تو انہوں نے اس کی طرف برتن جھکا دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1162]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1163
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ أَبُو قَتَادَةَ يُصْغِي الْإِنَاءَ لِلْهِرِّ فَيَشْرَبُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: مَا صَنَعْتُ إِلَّا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بلی کے لیے برتن جھکا دیتے تھے، وہ پی لیتی، پھر اس سے وضو کرتے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ جو میں نے کیا ہے یہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1164
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ يُقَرِّبُ طَهُورَهُ إِلَى الْهِرَّةِ فَتَشْرَبَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِسُؤْرِهَا. وَكُلُّ ذَلِكَ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ رِوَايَةِ مَالِكٍ وَمِنْ شَوَاهِدِهِ مَا.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی بلی کے قریب کرتے، وہ اس سے پیتی اور پھر اس کے جھوٹے سے وضو کرتے۔
یہ سب امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1164]
یہ سب امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن الجعد 2756»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1165
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بِبُخَارَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ ⦗٣٧٤⦘ أُمِّهِ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْهِرَّةِ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے متعلق فرمایا: ”وہ نجس نہیں ہے، وہ بھی گھر والوں کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن خزيمة 2/1»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1166
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ أنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ الْحَسَنُ بْنُ كَوْثَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاةً لَهَا أَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ صَحْفَةَ هَرِيسَةٍ فَجَاءَتْ بِهَا وَعَائِشَةُ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيْهَا عَائِشَةُ أَنْ ضَعِيهَا فَوَضَعَتْهَا وَعِنْدَ عَائِشَةَ نِسْوَةٌ فَجَاءَتِ الْهِرَّةُ فَأَكَلَتْ مِنْهَا أَكْلَةً - أَوْ قَالَ لُقْمَةً - فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ لِلنِّسْوَةِ: كُلْنَ فَجَعَلْنَ يَتَّقِينَ مَوْضِعَ فَمِ الْهِرَّةِ فَأَخَذَتْهَا عَائِشَةُ فَأَدَارَتْهَا، ثُمَّ أَكَلَتْهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ فِي مَعْنَاهُ وَفِي مَا ذَكَرْنَاهُ كِفَايَةٌ.
داؤد بن صالح تمار اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف حلوے کا پیالہ بطور ہدیہ بھیجا، وہ لے آئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اسے رکھ دے، اس نے رکھ دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں، بلی آئی اور اس میں سے ایک بار کھایا یا ایک لقمہ کھایا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (نماز سے) فارغ ہوئیں تو انہوں نے عورتوں کو کہا: کھاؤ، تو وہ بلی کے منہ کی جگہ سے بچنے لگیں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پکڑ کر گھمایا پھر کھایا اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے، وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے“ نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 76»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1167
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عَمِيلَةَ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ سُئِلَ عَنْ سُؤْرِ الْهِرَّةِ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا".
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے بلی کے جھوٹے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج بیان نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 357»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1168
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حَدَّثَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَهُورُ الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، الْأُولَى بِالتُّرَابِ، وَالْهِرَّةُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ" قُرَّةُ يَشُكُّ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَالْهِرَّةُ مِثْلُ ذَلِكَ وَأَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي إِدْرَاجِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْهِرَّةِ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ فِي الْكَلْبِ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ قُرَّةَ فَبَيَّنَهُ بَيَانًا شَافِيًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کی پاکی جب کتا اس میں منہ ڈال جائے یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھوئے، پہلی مرتبہ مٹی سے اور بلی سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھوؤ۔“
ابوعاصم ضحاک بن مخلد ثقہ ہیں، مگر انہوں نے بلی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج کرنے میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1168]
ابوعاصم ضحاک بن مخلد ثقہ ہیں، مگر انہوں نے بلی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج کرنے میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارقطني 1/64»
الحكم على الحديث: صحيح