السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
276. -- باب: صفة بئر بضاعة
-- باب: بئرِ بضاعہ (بضاعہ نامی کنویں) کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 1260
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" أَمَّا حَدِيثُ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَإِنَّ بِئْرَ بُضَاعَةَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَاسِعَةٌ كَانَ يُطْرَحُ فِيهَا مِنَ الْأَنْجَاسِ مَا لَا يُغَيِّرُ لَهَا لَوْنًا وَلَا طَعْمًا وَلَا يَظْهَرُ لَهُ فِيهَا رِيحٌ فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ يُطْرَحُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجِيبًا:" الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" وَبَيَّنَ أَنَّهُ فِي الْمَاءِ مِثْلُهَا إِذْ كَانَ مُجِيبًا عَلَيْهَا".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بضاعہ کنویں والی حدیث جس میں ہے کہ بضاعہ کنویں میں بہت زیادہ گہرا پانی ہوتا تھا اور اس میں گندگیاں پھینکی جاتی تھیں جو اس کے رنگ اور ذائقے کو تبدیل نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی اس میں بدبو ظاہر ہوتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: آپ بضاعہ کنویں سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں اس طرح کی چیزیں پھینکی جاتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ اس سے واضح ہو گیا کہ وہ پانی میں اسی طرح تھا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ⦗٤٠١⦘ قَالَ: قَالَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا، فَقَالَ:" أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ، قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَدَّرْتُ بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتْحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: لَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ..
قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قَیِّم سے بئرِ بضاعہ کی گہرائی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: زیادہ سے زیادہ پانی زیرِ ناف تک ہوتا ہے۔ میں نے کہا: جب کم ہو جائے؟ انہوں نے کہا: شرمگاہ سے نیچے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بئرِ بضاعہ کا میں نے اپنی چادر سے اندازہ لگایا، میں نے اس کو اس پر پھیلایا پھر اس کی پیمائش کی تو اس کا عرض چھ ہاتھ تھا۔ جس شخص نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور مجھے اندر لے گیا، میں نے اس سے پوچھا: کیا اس کی بنیادیں تبدیل کر دی گئی ہیں جس پر وہ پہلے تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے اس میں پانی دیکھا جس کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح