🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

283. -- باب: رخصة المسح لمن لبس الخفين على الطهارة
-- باب: باوضو حالت میں موزے پہننے والے کے لیے مسح کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ:" مَعَكَ مَاءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ:" دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ" فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَكَرِيَّا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ مُخْتَصَرًا.
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد (سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور رات کی سیاہی میں مجھ سے چھپ گئے، پھر تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اور چہرہ دھویا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اونی جبہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں کو اس سے نہ نکال سکے، پھر ان کو اپنے جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر میں جھکا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتاروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑو، میں نے باوضو پہنے تھے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 203»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقُلْتُ: أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" إِنِّي قَدْ أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ لَمْ أُجْنِبْ بَعْدُ".
عروہ بن مغیرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں، اس میں ہے کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے باوضو پہنے تھے، اس کے بعد میں جنبی نہیں ہوا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ:" تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ" فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِيَ مَاءٌ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مَاءً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ فَضَاقَ كُمُّهَا فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْكَ أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ؟ قَالَ:" إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ".
(الف) حمزہ بن مغیرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مغیرہ! تو پیچھے رہ، اور لوگوں سے تم چلتے رہو۔“ میرے پاس پانی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے ہاتھ دھونا شروع ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رومی جبہ تھا اور اس کی آستین تنگ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ نیچے سے نکالے، انہیں دھویا اور سر پر مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح کیا۔
(ب) عروہ بن مغیرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اپنے موزوں پر مسح کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ باوضو پہنے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 125»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ⦗٤٢٣⦘ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ، ثنا الْمُهَاجِرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا".
سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسافر کو تین دن اور تین راتیں رخصت دی اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات، جب باوضو موزے پہنے ہوں تاکہ ان پر مسح کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا بُنْدَارٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا الْمُهَاجِرُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهَا وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا" وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَأَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ شَكَّ فِي قَوْلِهِ: إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ فِي الْحَدِيثِ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسافر کو تین دن اور تین راتیں رخصت دی اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات جب باوضو موزے پہنے ہوں تاکہ ان پر مسح کریں۔“ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے عبدالوہاب سے نقل کیا ہے، لیکن ربیع نے اس قول میں شک کیا ہے، یعنی: جب باوضو موزے پہنے ہوں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول حدیث کے الفاظ ہی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1341
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ" قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ وَلَا نَوْمٍ وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ".
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: تجھے کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بھی علم کی تلاش میں اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: میں آپ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھنے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں اس لشکر میں تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم موزے طہارت کی حالت میں پہنیں تو ان پر مسح کریں، جب سفر میں ہوں تو تین دن اور جب مقیم ہوں تو ایک رات، اور پیشاب، قضائے حاجت اور نیند کی وجہ سے انہیں نہ اتاریں، اور انہیں صرف جنابت کی وجہ سے اتاریں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستر سال ہے، وہ بند نہیں ہوگا جب تک سورج اس طرف سے طلوع نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1341]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1342
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الشَّامَاتِيُّ يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا أَبُو رَوْقٍ، ثنا أَبُو الْغَرِيفِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ وَقَالَ:" لِيَمْسَحْ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلْيَمْسَحِ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً".
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: ”تم موزوں پر تین دن اور تین راتیں مسح کرو اگر مسافر ہو اور باوضو پہنے ہوں اور مقیم ایک دن اور ایک رات مسح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1343
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٢٤⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: ايتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يُسَافَرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ وَثُلُوجٍ كَثِيرَةٍ فَمَا تَرَى فِي الْخُفَّيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَقَدْمَاهُ طَاهِرَتَانِ" تَفَرَّدَ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى.
شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح سے متعلق سوال کرنے آیا تو انہوں نے فرمایا: تو علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے رہتے تھے۔ میں ان کے پاس آیا، کہا: ہم ٹھنڈی اور بہت زیادہ برف والی زمین میں ہوتے ہیں، آپ کا موزوں پر مسح کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، یہ اس وقت موزوں پر مسح کریں گے جب انہیں باوضو پہنا ہو۔“
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1344
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا وَرِجْلَاهُ فِي الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب ہم میں سے کوئی وضو کرے اور اس کے پاؤں موزوں میں ہوں (تو کیا وہ مسح کرے گا)؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، جب وہ دونوں موزے باوضو پہنے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں