🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

309. -- باب: الرجل يصيب من الحائض ما دون الجماع
-- باب: آدمی کا حائضہ سے جماع کے علاوہ لطف اندوز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ} [البقرة: ٢٢٢] قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ" فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا" لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَيَفْعَلُوا مَا شَاءُوا إِلَّا الْجِمَاعَ وَذَكَرَ الْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی عورت جب حائضہ ہوتی تو اس کو گھر سے نکال دیتے، نہ اس کے ساتھ مل کر کھاتے اور نہ پیتے تھے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (حائضہ) کے متعلق سوال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] آخر تک نازل فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے ساتھ گھروں میں رہو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو۔“ یہود نے کہا: یہ شخص ہمارے کسی معاملے کو نہیں چھوڑتا، اس میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔ سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہود ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، کیا حیض کے دنوں میں ہم ان سے جماع نہ کرلیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر غصہ کیا ہے، وہ دونوں نکلے تو انہیں سامنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ایک ہدیہ آتا ہوا ملا، آپ نے ان کے پیچھے کسی کو بھیجا اور انہیں دودھ پلایا، تب ہمیں یقین ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض نہیں ہیں۔
(ب) ابوداؤد طیالسی کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں اور پئیں اور گھروں میں رہیں اور جماع کے علاوہ جو مرضی کریں، باقی حدیث اسی کے ہم معنی بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 302»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1502
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَابْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِ".
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی ندبہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے مباشرت کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی تھیں، ان پر ازار ہوتا تھا جو نصف ران یا گھٹنوں تک ہوتا تھا، وہ اس سے لپٹی ہوتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 267»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٤٦٨⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبٌ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ نُدْبَةَ مَوْلَاةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا أَرْسَلَتْهَا مَيْمُونَةُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي رِسَالَةٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَإِذَا فِرَاشُهُ مَعْزُولٌ عَنْ فِرَاشِ امْرَأَتِهِ فَرَجَعَتْ إِلَى مَيْمُونَةَ فَبَلَّغَتْهَا رِسَالَتَهَا، ثُمَّ ذَكَرَتْ ذَلِكَ فَقَالَتْ لَهَا مَيْمُونَةُ: ارْجِعِي إِلَى امْرَأَتِهِ فَسَلِيهَا عَنْ ذَلِكَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهَا فَسَأَلَتْهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا إِذَا طَمِثَتْ عَزَلَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِرَاشَهُ عَنْهَا فَأَرْسَلَتْ مَيْمُونَةُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَتَغَيَّظَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ:" أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللهِ إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ أَزْوَاجِهِ لَتَأْتَزِرُ بِالثَّوْبِ مَا يَبْلُغُ أَنْصَافَ فَخِذَيْهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا بِسَائِرِ جَسَدِهَا".
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ کو حبیب رحمہ اللہ نے جو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا غلام تھا خبر دی کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی ندبہ کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف ایک خط دے کر بھیجا، وہ ان کے پاس پہنچی، ان کا بستر بیوی سے الگ تھا، وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف واپس لوٹی، اس نے ان کا خط پہنچا دیا، پھر انہیں سارا قصہ بیان کیا، اس پر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اس معاملے کے متعلق اس سے سوال کرو۔“ وہ اس کی طرف لوٹی، اس نے اس سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ جب وہ حائضہ ہوتی ہے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان سے بستر الگ کر لیتے ہیں، میمونہ رضی اللہ عنہا نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور وہ ان پر غصے ہوئیں اور کہا: ”کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتا ہے؟ اللہ کی قسم! بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کپڑے سے لنگوٹ باندھتی جو نصف رانوں تک ہوتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے علاوہ باقی) سارے جسم سے مباشرت کرتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 6/332»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1504
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ:" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ".
خلاس ہجری کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر میں رات گزارتے تھے، اور میں بہت زیادہ حائضہ ہوتی تھی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کوئی چیز لگ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کو دھو لیتے، اس سے آگے تجاوز نہیں کرتے تھے اور اس (کپڑے ہی) میں نماز پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1504]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ آخرجه ابو داؤد 269»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1505
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ قَالَتْ:" أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ - فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ فَقَالَ:" ادْنِي مِنِّي" قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ قَالَ:" وَإِنْ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ فَكَشَفْتُ عَنْ فَخِذِيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِيَّ وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِيءَ وَنَامَ".
عمارہ بن غراب کی پھوپھی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: جب ہم میں سے کوئی حیض والی ہوتی تھی تو اس کا اور اس کے خاوند کا ایک ہی بستر ہوتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: میں تجھے بتاتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے، پھر مسجد کی طرف چلے گئے۔ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، یعنی اپنے گھر کی مسجد میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھرے نہیں، یہاں تک کہ میری آنکھیں غالب آگئیں (یعنی مجھے نیند آگئی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردی محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے قریب ہو جاؤ!“ میں نے کہا: میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ (ایسا ہی ہو)، اپنی رانوں سے کپڑا ہٹا دو۔“ میں نے اپنی رانوں سے کپڑا ہٹا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرمی حاصل کی اور سو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 270»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ ثنا أَبُو عُمَرَ ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ مِنَ الْحَائِضِ شَيْئًا أَمَرَهَا فَأَلْقَتْ عَلَى فَرْجِهَا ثَوْبًا، ثُمَّ صَنَعَ مَا أَرَادَ قَالَ أَبُو بَكْرِ: وَكُلُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِقَاتٌ.
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی (رضی اللہ عنہا) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حائضہ سے کسی چیز کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اپنی شرمگاہ پر کپڑا ڈالنے کا حکم دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے جو آپ چاہتے۔ ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں ثقہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 272»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ثنا زُهَيْرٌ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي فِي شِعَارٍ وَاحِدٍ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ أَوْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ" ⦗٤٦٩⦘ كَذَا رَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَتَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، فَبَيِّنٌ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بَعْدَ الِاتِّزَارِ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ایک چادر میں لیٹ کر مباشرت کرتے تھے، اور وہ تمہاری نسبت اپنے نفس کے زیادہ مالک تھے۔ (ب) شعبہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لنگوٹ باندھنے کے بعد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1508
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَأَدْخَلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي مَضَتْ فِي الْبَابِ قَبْلَ هَذَا أَصَحُّ وَأَبَيْنُ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِمَا عَسَى أَنْ يَصِحَّ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ مَا هُوَ مُبَيَّنٌ فِي تِلْكَ الْأَحَادِيثِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں لنگوٹ باندھتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی، میں ایک لحاف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہوتی تھی۔ (ب) اس سے پہلے والے باب میں جو احادیث گزری ہیں وہ زیادہ صحیح اور زیادہ واضح ہیں، اور یہ احتمال ہے کہ ان احادیث میں سے جو صحیح ہوں ان سے مراد وہی ہو جو ان (پچھلی) احادیث میں واضح بیان ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارمي 1048»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1509
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ عِقَالٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنِ امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَتْ:" فَرْجُهَا" قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنَ امْرَأَتِي إِذَا حَاضَتْ؟ قَالَتْ:" فَرْجُهَا".
حکیم بن عقال کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: مجھ پر میری عورت سے کیا حرام ہے جب میں روزہ دار ہوں؟ انہوں نے کہا: اس کی شرمگاہ۔ میں نے کہا: مجھ پر میری بیوی سے کیا حرام ہے جب وہ حائضہ ہو؟ انہوں نے کہا: اس کی شرمگاہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الطحاوي 2/95»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" اتَّقِ مِنَ الْحَائِضِ مِثْلَ مَوْضِعِ النَّعْلِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”حائضہ سے جوتی جیسی جگہ سے بچ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں