السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
317. -- باب: في الاستطهار
-- باب: استطہار (طہارت کے لیے احتیاطی مدت مقرر کرنے) کے بیان میں
حدیث نمبر: 1565
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ" فَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رگ ہے، حیض نہیں ہے، جب آئے تو نماز چھوڑ دے اور اس (حیض) کی مقدار چلا جائے تو اپنے سے خون دھو اور نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1566
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ثنا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَدِّعِ ثنا هِشَامٌ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا إِسْحَاقُ الْفَقِيهُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ، ثُمَّ صَلِّي لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَحَدِيثُ مُحَاضِرٍ بِمَعْنَاهُ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے۔ جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے سے خون دھو دے، پھر نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1567
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مُلِئَ دَمًا فَقَالَ لَهَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا جَمِيعًا إِذَا أَدْبَرَتْ حَيْضَتُهَا أَوْ مَضَى قَدْرَ مَا كَانَتْ حَيْضَتُهَا تَحْبِسُهَا فِي حُكْمِ الطَّاهِرَاتِ وَلَمْ يَأْمُرْ بِالِاسْتِطْهَارِ وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ضَعِيفٍ مَا يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خون کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا ہوا دیکھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنی دیر تجھے تیرا حیض روکے رکھے اتنی دیر رک جا، پھر غسل کر۔“ (ب) اسے امام مسلم نے صحیح مسلم میں قتیبہ بن سعید سے روایت کیا ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں روایتوں میں اسے، جب اس کا حیض ختم ہو جائے یا اتنا عرصہ گزر جائے جتنے دن اس کا حیض اسے روکے رکھتا تھا، پاک عورتوں کے حکم میں رکھا اور استظہار (احتیاطاً مزید دن انتظار کرنے) کا حکم نہیں دیا۔ ایک ضعیف حدیث میں ایسی بات مروی ہے جس سے اس کا وہم ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد 65»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1568
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي مُحَمَّدًا ثنا الْفِرْيَابِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، ٢٧ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَةَ مُرْشِدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:" تَنَكَّرَتْ حِيضَتِي" قَالَ:" كَيْفَ؟" قَالَتْ: تَأْخُذُنِي فَإِذَا تَطَهَّرْتُ مِنْهَا عَاوَدَتْنِي قَالَ:" إِذَا رَأَيْتِ ذَلِكَ فَامْكُثِي ثَلَاثًا قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو بَكْرِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ: الْخَبَرُ وَاهٍ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَّ الطُّهْرَ كَثِيرًا يَقَعُ فِي وَسَطِ الْحَيْضِ فَيَكُونُ حَيْضًا بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ الشَّيْخُ: حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ.
ابن جابر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مرثد انصاریہ کی بیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں نے اپنے حیض کو عجیب محسوس کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے؟“ اس نے کہا: مجھے آتا ہے جب میں پاک ہوجاتی ہوں تو دوبارہ پھر آجاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو یہ دیکھے تو تین (دن) رک جا۔“ (ب) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ (ج) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اکثر دوران حیض طہر آجاتا ہے پھر اس کے بعد حیض شروع ہوجاتا ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: حرام بن عثمان ضعیف ہے، قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 1569
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا ⦗٤٩٠⦘ إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيَّ ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، أَنَّ الْقَعْقَاعَ بْنَ حَكِيمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ، فَقَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي مَا أَجِدُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتُصَلِّ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى.
قعقاع بن حکیم نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مستحاضہ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”اے بھتیجے! مجھ سے زیادہ اس کو کوئی بھی جاننے والا نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب (حیض) چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَيْضِ/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارمي 787»
الحكم على الحديث: صحيح