🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

338. -- باب: وقت المغرب
-- باب: مغرب کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ:" ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمَ" وَقَالَ فِي الْمَرَّةِ الْأُخْرَى:" ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی...“ اس میں ہے ”پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ داروں نے افطار کر لیا“ اور دوسری مرتبہ فرمایا: ”پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ داروں نے افطار کر لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزَيَّانِ قَالَا: أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُبَارَكٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ:" قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتْ سَوَاءً ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ لِلصُّبْحِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ثُمَّ جَاءَهُ ⦗٥٤٢⦘ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ الصُّبْحُ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت سورج ڈھل چکا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں، ظہر کی نماز پڑھیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آدمی کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کھڑے ہوں، عصر کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غائب ہو گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی جس وقت سورج مکمل غائب ہو گیا، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سرخی چلی گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت فجر صبح کے لیے طلوع ہونے لگی اور کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور صبح کی نماز پڑھائی، پھر دوسرے روز آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کی مثل ہو گیا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں، ظہر کی نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ظہر کی نماز پڑھی، پھر آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا تھا، انہوں نے کہا: ”اے محمد! کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز پڑھی، پھر مغرب کو ایک ہی وقت میں آئے جس وقت سورج غائب ہو گیا، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں، مغرب کی نماز پڑھیں“، پھر عشا کو آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ چلا گیا اور کہا: ”کھڑے ہوں، عشا کی نماز پڑھیں“، پھر صبح کو آئے جس وقت خوب روشنی ہو گئی، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کھڑے ہوں، صبح کی نماز پڑھیں“، پھر فرمایا: ”ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 526»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثِيُّ ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلَاةَ فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مِثْلَ قَامَةِ شَخَصِ الرَّجُلِ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ وَقَالَ: فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِي جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَالَ: وَقَالَ فِي آخِرِهِ ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ" قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلَاةِ؟ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز سکھانے کے لیے آئے۔ جب سورج ڈھل چکا تھا جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آئے جس وقت سایہ آدمی کے قد کے برابر ہو گیا۔ جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، عصر کی نماز پڑھائی، پھر آئے جس وقت سورج غروب ہو گیا۔ جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، مغرب کی نماز پڑھائی، پھر باقی حدیث ذکر کی اس میں ہے کہ پھر دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہی وقت میں آئے جس وقت سورج غروب ہو گیا۔ جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ مغرب کی نماز پڑھائی اور اس کے آخر میں فرمایا: ”ان دونوں (نمازوں) وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے“، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان کو نماز پڑھائی، جس طرح آپ کو جبرائیل علیہ السلام نے پڑھائی تھی، پھر فرمایا: ”نماز کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ دو (نمازوں) وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْفَهَانِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ فِيمَا كَتَبَ إِلِيَّ، ثنا أَبِي ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ثنا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ فَاءَ الْفَيْءَ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ بَدَا أَوَّلُ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ الْيَوْمَ الثَّانِي حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ فِي ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلَّى الصُّبْحَ بَعْدَ مَا أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَمَّنِي لَيُعَلِّمَكُمْ أَنَّ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ".
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سایہ لوٹ آیا اور عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا اور عشا کی نماز پڑھائی جس وقت سرخی غائب ہو گئی اور صبح کی نماز پڑھائی جس وقت پہلی فجر ظاہر ہوئی، پھر دوسرے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا اور عشا کی نماز ایک تہائی رات میں پڑھائی اور صبح کی نماز روشنی کے بعد پڑھائی، پھر فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے میری امامت کرائی تاکہ وہ تمہیں سکھائے کہ ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ ⦗٥٤٣⦘ السَّلَامُ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ" ثُمَّ ذَكَرَ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ لَمَّا جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے ہیں“، پھر نماز کے اوقات بیان کیے، پھر ذکر کیا کہ مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر جب اگلے دن آئے تو مغرب کی نماز اسی وقت میں پڑھائی جس وقت سورج غروب ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي 502»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُسَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ" أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاهُ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ فِي وَقْتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ قَالَ:" فَجَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِيَ سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فِي الْمَغْرِبِ فَصَلَّى بِيَ سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يُغَيِّرْهُ" مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنُ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ ذَلِكَ.
محمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے سوائے مغرب کے، دو وقتوں میں نماز پڑھائی۔ میرے پاس مغرب کے وقت آئے، مجھے اس وقت نماز پڑھائی کہ جب سورج غروب ہو گیا، پھر دوسرے روز میرے پاس مغرب کے وقت آئے تو مجھے اسی گھڑی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوا اور اس (وقت) کو تبدیل نہیں کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم 1/307»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ثنا مَكِّيٌّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے جب سورج پردوں میں چھپ جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 536»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، أنا أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مغرب کی نماز پڑھتے تھے، ہم میں کوئی واپس لوٹ کر اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ لیتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 534»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1726
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلَمَةَ فَلَوْ رَمَيْنَا لَرَأَيْنَا مَوَاقِعَ نَبْلِنَا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم بنی سلمہ آتے اور تیر پھینکتے تو ہم تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي 954»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ⦗٥٤٤⦘ الْجُهَنِيِّ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي السُّوقَ فَلَوْ رَمَيْنَا بِالنَّبْلِ لَرَأَيْنَا مَوَاقِعَهَا".
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم بازار آتے، اگر ہم تیر پھینکتے تو ہم اس کی جگہ دیکھ لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں