السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
356. -- باب: القدر الذي كان بين أذان بلال وابن أم مكتوم ورواية من قدم أذان ابن أم مكتوم على أذان بلال
-- باب: حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم کی اذانوں کے درمیانی وقفے کی مقدار اور اس شخص کی روایت کا بیان جس نے حضرت ابن ام مکتوم کی اذان کو حضرت بلال کی اذان پر مقدم کیا
حدیث نمبر: 1793
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" أَوْ قَالَ:" إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ" قَالَتْ: وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَكُنَّا نَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: فَإِنْ صَحَّ رِوَايَةُ أَبِي عَمْرٍو وَغَيْرُهُ فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَبَيْنَ بِلَالٍ نُوَبٌ فَكَانَ بِلَالٌ إِذَا كَانَتْ نَوْبَتُهُ أَذَّنَ بِلَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِذَا كَانَتْ نَوْبَتُهُ أَذَّنَ بِلَيْلٍ وَهَذَا جَائِزٌ صَحِيحٌ وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَقَدْ صَحَّ خَبَرُ ابْنِ عَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَسَمُرَةَ وَعَائِشَةَ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ تَقْدِيمُ أَذَانِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنی چچی انیسہ رضی اللہ عنہا سے سنا، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔“ یا فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دے۔“ انہوں نے کہا: یہ چڑھتا تھا اور وہ اترتا تھا، ہم اس کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے: ”اپنی جگہ ٹھہرے رہو یہاں تک کہ ہم سحری کر لیں۔“
ابوبکر بن اسحاق فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابو عمر وغیرہ کی روایات صحیح ہوں تو جائز ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان باری طے ہو، جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے اور اگر سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے۔
یہ جائز اور درست ہے، اور اگر یہ صحیح نہ ہو تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن مسعود، سمرہ رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت صحیح ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا پہلے ہونا مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1793]
ابوبکر بن اسحاق فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابو عمر وغیرہ کی روایات صحیح ہوں تو جائز ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان باری طے ہو، جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے اور اگر سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے۔
یہ جائز اور درست ہے، اور اگر یہ صحیح نہ ہو تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن مسعود، سمرہ رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت صحیح ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا پہلے ہونا مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1794
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَدَنِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلٌ أَعْمَى فَإِذَا أَذَّنَ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ" قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ بِلَالٌ يُبْصِرُ الْفَجْرَ. قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: غَلَطَ ابْنُ عُمَرَ، كَذَا رُوِيَ بِإِسْنَادِهِ وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ - وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ - بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم نابینا آدمی ہے، جب وہ اذان دے تو کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیدے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بلال رضی اللہ عنہ فجر کو دیکھ لیتے تھے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات درست نہیں۔
عبید اللہ بن عمر عن قاسم بن محمد عن عائشہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے، اور واقدی نے، جو حجت نہیں ہے، اسے اپنی سند سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1794]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات درست نہیں۔
عبید اللہ بن عمر عن قاسم بن محمد عن عائشہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے، اور واقدی نے، جو حجت نہیں ہے، اسے اپنی سند سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1795
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى وَأَبُو صَادِقٍ ⦗٥٦٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ"".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1795]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1796
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْحَاكِمِ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ، أنا سُفْيَانُ ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَبَّانَ بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ: أَتَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ مُعَسْكِرٌ بِدَيْرِ أَبِي مُوسَى فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ فَقَالَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ لِابْنِ التَّيَّاحِ:" أَقِمِ الصَّلَاةَ".
حبان بن حارث کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ دیر ابی موسیٰ میں لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، میں نے انہیں کھانا کھاتے ہوئے پایا تو انہوں نے کہا: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ، میں نے کہا: میں نے روزے کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے بھی روزے کا ارادہ کیا تھا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ابن نباح سے کہا: نماز کی اقامت کہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 7609»
الحكم على الحديث: ضعيف