🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

366. -- باب: زوال العقل بالسكر لا يكون عذرا في سقوط الفرض عنه
-- باب: نشے کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا اس پر سے فرض کے ساقط ہونے کا عذر نہیں بن سکتا اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1829
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا، وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَكَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ" قَالُوا: مَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دی تو وہ ایسا ہے جیسے اس سے دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے چھین لیا گیا اور جس نے چار مرتبہ نشے کی حالت میں نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو «طِينَةُ الْخَبَالِ» پلائے۔“ پوچھا گیا: ” «طِينَةُ الْخَبَالِ» سے کیا مراد ہے، اے اللہ کے رسول؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کی پیپ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1829]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه احمد 2/178»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْقَلَانِسِيُّ بِالرَّمْلَةِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ" تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرٌ هَكَذَا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کی نیکی (آسمان پر) چڑھتی ہے: بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مالک کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دے، اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشے والا یہاں تک کہ صحیح ہو جائے۔“
اسے اس طرح بیان کرنے میں زہیر متفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن حبان 5355»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں