السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
408. -- باب: الرغبة في أن يكون المؤذن صيتا
-- باب: مؤذن کے بلند آواز ہونے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 2006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ثنا يَعْقُوبُ ثنا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَذَكَرَ قِصَّةَ رُؤْيَاهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ" وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ حَيْثُ قَالَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ:" أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ ارْتَفَعَ؟" وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى:" لَقَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلَاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ" وَهِيَ رِوَايَةُ عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ.
محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خواب کا قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ سچا خواب ہے «إِنْ شَاءَ اللهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“۔ بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، جو تم نے دیکھا ہے انہیں سکھلا دو اور وہ اذان دیں، بلاشبہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والے ہیں۔“
(ب) سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کس کی آواز بلند ہے جو آواز میں نے سنی ہے؟“
(ج) ایک اور روایت میں ہے: ”میں نے ان لوگوں میں سے خوب صورت آواز والے شخص کی اذان سنی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2006]
(ب) سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تم میں سے کس کی آواز بلند ہے جو آواز میں نے سنی ہے؟“
(ج) ایک اور روایت میں ہے: ”میں نے ان لوگوں میں سے خوب صورت آواز والے شخص کی اذان سنی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن