السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
428. -- باب: من استحب تأخيرها
-- باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةُ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ" قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى فِرْقِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يَقْصُرُ وَلَا يَبْطُشُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَذَلِكَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ ذَلِكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ عَطَاءٌ: فَأَحَبُّ إِلِيَّ أَنْ تُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤْخِرَةً كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ قَالَ: فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسْطَةً لَا مُعَجَّلَةً وَلَا مُؤْخِرَةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ هَكَذَا وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عبدالرزاق فرماتے ہیں: ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ میں نے عطا سے عرض کیا: آپ کے نزدیک عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ بہتر ہے؟ وہ فرمانے لگے: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں تاخیر کی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے پھر بیدار ہو گئے پھر دوبارہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: نماز کا وقت جا رہا ہے۔ عطا کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یہ منظر اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کو سر کی ایک طرف رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں اسی طرح (اس وقت میں) نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔“ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر مبارک پر کس طرح رکھا تھا؟ تو عطا نے مجھے سمجھانے کی غرض سے اپنی انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ کیا یعنی انگلیاں کشادہ کر لیں، پھر انگلیوں کے کناروں کو سر میں مانگ پر رکھا پھر انگلیوں کو ملا کر انھیں اسی طرح سر پر پھیرنے لگے حتیٰ کہ ان کا انگوٹھا چہرے کی طرف والی کان کی لو سے ٹکرایا۔
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا: اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کتنی دیر تک مؤخر کی تھی؟ انھوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے: میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2114]
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا: اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کتنی دیر تک مؤخر کی تھی؟ انھوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے: میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ⦗٦٦١⦘ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنِ الصَّلَاةِ لَيْلَةً فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا دھیان نہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نہ نکلے اور ہم بیٹھے بیٹھے سوتے جاگتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنِي جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا لَيْلَةً نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ:" إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ" قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب رات کا تقریباً تہائی حصہ گزر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ کسی بھی دین و ملت والا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میں اپنی امت پر اس کو بھاری نہ سمجھتا تو میں اس وقت ان کو نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 639»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ:" إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي" لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَمْ يَقُلْ بِالْعَشَاءِ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ سَوَاءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی حتیٰ کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور مسجد والے بھی سو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”یہ اس نماز کا افضل وقت ہے، اگر یہ میری امت پر گراں نہ ہو۔“ یہ عبدالرزاق کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حجاج کی حدیث میں جو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے عشاء کا لفظ نہیں کہا، باقی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 638»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا يَحْيَى ثنا عَوْفٌ ثنا أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ ⦗٦٦٢⦘ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي: حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ:" كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، قَالَ: وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ.
عوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو منہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے عرض کیا: ہمیں بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کس وقت میں ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز جسے تم پہلی نماز کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد ادا فرماتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ اگر ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے اپنے گھر جاتا تو سورج ابھی چمک رہا ہوتا اور مغرب کا وقت مجھے یاد نہیں رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند فرماتے تھے اور عشا سے پہلے سونے کو ناپسند سمجھتے اور عشا کے بعد بات چیت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوتے تو (اتنی روشنی ہو جاتی تھی کہ) ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیات فجر کی نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 516»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2119
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”عشاء کی نماز کو مؤخر کر کے ادا کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مسلم 643»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدَ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ:" إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ بَدَلَ أَبِي سَعِيدٍ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) عشا کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کی، پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔“
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2120]
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه في الحديث 1758»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2121
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو الْيَمَانِ ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيُّ صَاحِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقِيَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ لَيْلَةً فَتَأَخَّرَ بِهَا حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّى أَوْ لَيْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ".
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2121]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 5/237»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2122
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُسْتَحَبُّ تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ وَيَقْرَأُ {وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] ".
حضرت عبید اللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ عشاء کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے اور یہ آیتِ کریمہ پڑھتے تھے: ﴿وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] (اور رات کی گھڑیوں میں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تفسير طبري 7/ 124»
الحكم على الحديث: صحيح