السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
450. -- باب: لا تسمع دلالة مشرك لمن كان أعمى أو غير بصير بالقبلة
-- باب: نابینا یا قبلہ سے ناواقف شخص کے لیے مشرک کی رہنمائی کا معتبر نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَمْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجِنَازَةُ؟ فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُ أَعْلَمُ" فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَكَلَّمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ، وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ، وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ" ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ هُوَ: نَمْلَةُ بْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ.
ابن ابی نملہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، اتنے میں ایک یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ جنازہ کلام کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔“ یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ میت بات کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب جو بات تمہیں بیان کریں نہ اس کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب کرو، (صرف اتنا کہو) «آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ» ”ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔“ اگر ان کی بات صحیح (حق) ہو تو ان کی تکذیب نہ کرو اور اگر ان کی بات غلط ہو تو ان کی تصدیق مت کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ (بدون القصر) اخرجه ابوداود 3644»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2238
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب سے (دین کی) کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو، کیونکہ وہ ہرگز تمہاری رہنمائی نہیں کرسکیں گے اس لیے کہ وہ خود گمراہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 3/ 338»
الحكم على الحديث: حسن لغيره