السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
480. -- باب: من روى الجمع بينهما
-- باب: جس نے ان دونوں (دعاؤں) کو جمع کرنے کی روایت بیان کی ہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2351
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ" ⦗٥٣⦘.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور تعریف تیرے لیے ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔“
” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اس ذات کی جانب متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2351]
” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اس ذات کی جانب متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ قال الزيلعي في نصب الرابة 2/ 204»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَقَالَ: تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے، اس میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «تَبَارَكَ اسْمُكَ» باقی حدیث اسی طرح ہے۔
عبداللہ بن عامر اسلمی نے، جو ضعیف ہیں، اسے محمد بن منکدر سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2352]
عبداللہ بن عامر اسلمی نے، جو ضعیف ہیں، اسے محمد بن منکدر سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف