السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
502. -- باب: من استحب قراءة السورة بعد الفاتحة في الأخريين
-- باب: جس نے آخری دو رکعتوں میں بھی سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2477
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:" كُنَّا نُحْرِزُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفٍ مِنْ ذَلِكَ، وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ⦗٩٣⦘ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ: عَلَى قَدْرِ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
(ا) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام سے اندازہ لگایا کرتے تھے کہ آپ نے دونوں رکعتوں میں کتنی قراءت کی، ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنا قیام فرماتے جتنی دیر میں سورہ السجدہ کی تلاوت کی جا سکے اور آخری دو رکعتوں میں آپ کا قیام پہلی دو کے نصف کے برابر تھا۔ پھر ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو یہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کی قراءت کے برابر تھا اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں عصر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر تھا۔
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے: تیس آیات کی قراءت کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2477]
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے: تیس آیات کی قراءت کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 7755، مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السَّنَدِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ: نِصْفَ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریباً تیس آیات کے بقدر قراءت کرتے تھے اور ظہر کی آخری دو رکعتوں میں پندرہ آیات کے بقدر یا اس کے نصف کے برابر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتوں میں اس کے نصف کے برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 452»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2479
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيّ، أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ أَبُو بَكْرٍ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ:" فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنَّ ثِيَابِي لَتَكَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَهَذِهِ الْآيَةِ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ} [آل عمران: ٨] زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ" قَالَ الشَّافِعِيُّ وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: لَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَعَلَى غَيْرِ هَذَا حَتَّى سَمِعْتُ بِهَذَا فَأَخَذْتُ بِهِ.
قیس بن حارث فرماتے ہیں کہ مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ آئے۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں میں سے ایک ایک سورہ کی قرأت کی، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں ان کے قریب ہو گیا حتیٰ کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مس ہوا چاہتے تھے۔ میں نے سنا، انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور یہ آیت پڑھی: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سنی تو فرمایا: ”سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2479]
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سنی تو فرمایا: ”سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك وعنه الشافعي في الام 7/ 207۔ 228»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ" إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ يَقْرَأُ فِي الْأَرْبَعِ ⦗٩٤⦘ جَمِيعًا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ، وَكَانَ أَحْيَانًا يَقْرَأُ بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ فِي صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ كَذَلِكَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ الْمَغْرِبَ.
سیدنا نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اکیلے نماز پڑھتے تو چاروں رکعات میں قراءت کرتے، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت بھی ملاتے اور کبھی کبھار فرض نماز کی ایک ایک رکعت میں دو دو اور تین سورتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح مغرب کی دو رکعتوں میں بھی سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2480]
امام شافعی رحمہ اللہ نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ موطا 175»
الحكم على الحديث: صحيح