🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

562. -- باب: كيفية الجلوس في التشهد الأول والثاني
-- باب: پہلے اور دوسرے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2770
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرْنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ، وَلَا قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَدَّمَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ" ⦗١٨٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ كَمَا.
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی جماعت میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر شروع ہو گیا، ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو یاد رکھنے والا ہوں، میں نے آپ کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر ٹکا دیتے اور اپنی کمر کو جھکا لیتے۔ پھر جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر پہنچ جاتا اور جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھتے، نہ زیادہ پھیلائے ہوئے ہوتے اور نہ ہی ملائے ہوئے ہوتے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے قبلہ رخ رکھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو اپنی ٹانگوں کو بچھا لیتے، پھر بائیں ٹانگ پر بیٹھ جاتے اور جب آخری قعدہ میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھا کر اپنی مقعد پر بیٹھ جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد 730، 963»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2771
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هُوَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَيَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ فِي رِوَايَتِهِ:" وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ".
(ا) ایک دوسری سند میں ہے کہ محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے قبلہ رخ کیے، پھر جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو بائیں ٹانگ پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا اور جب آخری قعدہ میں بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا اور سرین پر بیٹھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772
رَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، فَقَالَ فِي مَتْنِهِ:" فَإِذَا جَلَسَ فِي الْأُولَيَيْنِ جَلَسَ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَإِذَا جَلَسَ فِي الْآخِرَةِ جَلَسَ عَلَى إِلْيَتِهِ وَجَعَلَ بَطْنَ قَدَمَيْهِ الْيُسْرَى عِنْدَ مَأْبِضِ فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ أَسْقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ ابْنَ حَلْحَلَةَ.
شبابہ بن سوار رحمہ اللہ اس روایت میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دو رکعتوں میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو اپنی سرین پر بیٹھتے اور اپنے بائیں پاؤں کا اندرونی حصہ دائیں ران کے ساتھ گھٹنے کے اندرونی حصہ کے قریب کرتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2773
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ".
محمد بن عمرو بن عطا سے منقول ہے کہ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ دو رکعتوں میں بیٹھتے (قعدہ اولیٰ کرتے) تو اپنے بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے اور جب چوتھی رکعت کے بعد بیٹھتے تو بائیں کولہے کو زمین پر رکھتے اور اپنے دونوں پاؤں کو دائیں طرف نکال دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2773]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 731»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2774
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، وَأَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَكَفَّهُ الْيُسْرَى ⦗١٨٥⦘ عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، وَهَذَا فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ التَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ".
عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔“ اس میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دوسرے سجدے سے فارغ ہو کر) بیٹھ گئے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیا اور دائیں پاؤں کا اوپر والا حصہ قبلہ رخ رکھا، پھر دائیں ہتھیلی دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھی اور اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے تشہد کے بارے میں ہے، اس حدیث میں دوسرے تشہد کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 734»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2775
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ:" حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ"، فَقَالُوا جَمِيعًا: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا فِي التَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ نَصًّا وَلَيْسَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ كَيْفِيَّةُ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ وَقَدْ حَفِظِهُمَا جَمِيعًا ابْنُ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى مَا مَضَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ" يَقُولُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَحَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَأَحَدُهُمَا وَارِدٌ فِي التَّشَهُّدِ الْآخِرِ وَالثَّانِي وَارِادٌ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ بِالِاسْتِدْلَالِ بِحَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأَصْحَابِهِ".
محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے، جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔۔۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رکعت میں ہوتے تو بائیں پاؤں کو (سرین کے نیچے سے دائیں طرف) نکال کر بائیں کولہے پر بیٹھ جاتے تو سب نے کہا کہ آپ نے سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
(ب) یہ حدیث آخری تشہد کے بارے میں واضح ہے۔ اس میں پہلے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا بیان نہیں ہے۔ ان دونوں کو ابن حلحلہ رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو رحمہ اللہ سے اکٹھے حفظ کیا ہے۔
(ج) ابوجوزا رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھتے تھے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دائیں کو کھڑا رکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”شیطان کی طرح بیٹھنے“ سے منع فرماتے تھے۔
(د) وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیا۔
(ہ) ان میں سے ایک دوسرے تشہد کے بارے میں وارد ہے اور دوسری پہلے تشہد کے بارے میں منقول ہے۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے (یہی سمجھ آتا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2775]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله 730»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيَّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ" يَرَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ" فَفَعَلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ:" إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رِجْلِيَّ لَا تَحْمِلَانِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب بیٹھتے تو چار زانو ہو کر (آلتی پالتی مار کر) بیٹھتے۔ میں بھی اسی طرح بیٹھتا، ان دنوں میں چھوٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے منع کیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تو اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرے اور بائیں کو بچھا کر اس پر بیٹھے۔ میں نے پوچھا: آپ تو اس طرح (چار زانو) کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتے (یعنی میں بیمار ہوں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2776]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 202 ومن طريقه البخاري 827»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2777
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصُبَ الْيُمْنَى".
عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ”نماز کی سنت یہ ہے کہ داہنے پاؤں کو کھڑا کرلے اور بائیں پاؤں کو بچھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه 658»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2778
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَ" إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ نَصَبَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَجَلَسَ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى، وَلَمْ يَجْلِسْ عَلَى قَدَمَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَرَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَدَّثَنِي أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد رحمہ اللہ جب تشہد میں بیٹھتے تو دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور اپنے بائیں کولہے پر بیٹھتے اور اپنے قدموں پر نہیں بیٹھتے تھے اور فرماتے: میں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے اور انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ ان کے والد اسی طرح کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 203»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں