🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

566. -- باب: من روى أنه أشار بها ولم يحركها
-- باب: اس بات کی روایت کا بیان کہ آپ ﷺ نے انگلی سے اشارہ کیا اور اسے حرکت نہیں دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا لَا يُحَرِّكُهَا" قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ" يَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُبَشِّرُ بْنُ مُكَسِّرٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ.
(ا) عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں جب دعا کرتے تو اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے تھے، اس کو حرکت نہیں دیتے تھے۔“
(ب) عامر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح دعا کرتے ہوئے دیکھا، ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھے ہوئے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 841، 989»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2787
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ" قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ، وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ ثَلَاثَةً مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا" فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالتَّحْرِيكِ الْإِشَارَةَ بِهَا لَا تَكْرِيرَ تَحْرِيكِهَا فَيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھے اور ہتھیلی کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا، پھر انہوں نے اپنی تین انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنایا، پھر شہادت والی انگلی کو اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حرکت دیتے رہے، اس کے ساتھ دعا کرتے رہے۔
(ب) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ حرکت دینے سے مراد انگلی سے اشارہ کرنا ہے، نہ کہ مسلسل حرکت دینا۔ اس طرح یہ حدیث ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت کے موافق ہوجائے گی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2787]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن خزيمة 714»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2788
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَحْرِيكُ الْأُصْبُعِ فِي الصَّلَاةِ مَذْعَرَةٌ لِلشَّيْطَانِ" ⦗١٩٠⦘ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ:" تَحْرِيكُ الرَّجُلِ أُصْبُعَهُ فِي الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ مُقْمِعَةٌ لِلشَّيْطَانِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں انگلی کو حرکت دینا شیطان کے لیے نیزے کی طرح ہے۔“
(ب) مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں تشہد کے اندر آدمی کا انگلی کو حرکت دینا شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث کو بیان کرنے میں محمد بن عمر واقدی منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2788]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں