السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
596. -- باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى وَكَانَ مَنْ خَلْفَهُ يَقْرَأُ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَتَنْهَانِي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَازَعَا حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى خَلْفَ الْإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ جَابِرٍ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے قراءت کر رہے تھے تو صحابہ میں سے ایک شخص انھیں نماز میں قراءت سے منع کرنے لگا۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ایک شخص ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا: کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مجھے قراءت سے منع کررہا تھا؟ حتیٰ کہ ان میں تکرار ہوگیا۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بات پیش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی امام کے پیچھے نماز (پڑھ رہا ہو) تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہوگی۔“ [منکر۔ قال ابو حاتم فی العلل ۲۸۲]
ایک جماعت نے اسے ابوحنیفہ سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے، جبکہ عبداللہ بن مبارک نے ان سے جابر کے ذکر کے بغیر مرسل روایت کیا ہے اور یہی محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2896]
ایک جماعت نے اسے ابوحنیفہ سے اسی طرح موصول روایت کیا ہے، جبکہ عبداللہ بن مبارک نے ان سے جابر کے ذکر کے بغیر مرسل روایت کیا ہے اور یہی محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2896]
حدیث نمبر: 2897
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ الثِّقَةُ ⦗٢٢٨⦘ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ كِتَابِ الصَّلَاةِ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَكَذَلِكُ رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَغَيْرُهُمْ مِنَ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ مُوسَى مَوْصُولًا، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی امام کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہا ہو تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہوگی۔“
اسی طرح علی بن حسن بن شقیق نے ابن مبارک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح سفیان بن سعد ثوری، شعبہ بن حجاج، منصور بن معتمر، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس، ابوعوانہ، ابوالاحوص اور جریر بن عبدالحمید وغیرہ جیسے بااعتماد راویوں نے نقل کیا ہے اور یہی روایت حسن بن عمارہ نے موسیٰ کے واسطے سے موصول بیان کی ہے اور حسن بن عمارہ متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2897]
اسی طرح علی بن حسن بن شقیق نے ابن مبارک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح سفیان بن سعد ثوری، شعبہ بن حجاج، منصور بن معتمر، سفیان بن عیینہ، اسرائیل بن یونس، ابوعوانہ، ابوالاحوص اور جریر بن عبدالحمید وغیرہ جیسے بااعتماد راویوں نے نقل کیا ہے اور یہی روایت حسن بن عمارہ نے موسیٰ کے واسطے سے موصول بیان کی ہے اور حسن بن عمارہ متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2898
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، وَلَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا وَكُلُّ مَنْ تَابَعَهُمَا عَلَى ذَلِكَ أَضْعَفُ مِنْهُمَا أَوْ مِنْ أَحَدِهِمَا، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی امام کی اقتدا کر رہا ہو تو امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔“
جابر جعفی اور لیث بن ابی سلیم قابل حجت نہیں ہیں، اور جس نے بھی اس پر ان کی متابعت کی ہے وہ ان دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2898]
جابر جعفی اور لیث بن ابی سلیم قابل حجت نہیں ہیں، اور جس نے بھی اس پر ان کی متابعت کی ہے وہ ان دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدا فيه جابر الجعفي الكذاب»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2899
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَاءَ الْإِمَامِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ جَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَقَدْ رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، عَنْ مَالِكٍ وَذَاكَ مِمَّا لَا يَحِلُّ رِوَايَتُهُ عَلَى طَرِيقِ الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَقَدْ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ⦗٢٢٩⦘ مَذْهَبُ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ تَرْكَ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ دُونَ مَا لَا يَجْهَرُ، فَقَدْ رَوَى يَزِيدٌ الْفَقِيرُ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَكَذَلِكَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَذْهَبَ ابْنِ مَسْعُودٍ.
(ا) وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جس نے ایک بھی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو ایسی نماز صرف امام کے پیچھے ہی پڑھ سکتا ہے وگرنہ نہیں۔
(ب) یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے میں جابر رضی اللہ عنہما کا مذہب جہری نمازوں میں قراءت نہ کرنے کا ہو گا نہ کہ سری نمازوں میں۔ یزید فقیر نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورہ کی قراءت کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ اسی طرح یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب معلوم ہوتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ یحییٰ بن سلام اور دوسرے ضعیف راویوں نے اسے مالک سے مرفوع بیان کیا ہے اور اسے بطور دلیل روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2899]
(ب) یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مسئلے میں جابر رضی اللہ عنہما کا مذہب جہری نمازوں میں قراءت نہ کرنے کا ہو گا نہ کہ سری نمازوں میں۔ یزید فقیر نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ہم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور ایک سورہ کی قراءت کرتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے۔ اسی طرح یہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب معلوم ہوتا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ یحییٰ بن سلام اور دوسرے ضعیف راویوں نے اسے مالک سے مرفوع بیان کیا ہے اور اسے بطور دلیل روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2900
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ:" أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغُلًا، وَسَيَكْفِيكَ ذَاكَ الْإِمَامُ" وَإِنَّمَا يُقَالُ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ لِمَا يُسْمَعُ لَا مَا لَا يُسْمَعُ" وَقَدْ قَالَ عَلْقَمَةُ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ فَلَمْ أَعْلَمْ أَنَّهُ يَقْرَأُ حَتَّى جَهَرَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {وَقُلْ رَبِّي زِدْنِي عِلْمًا} وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ خَلْفَ الْإِمَامِ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ".
(ا) سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: قرآن (سننے) کے لیے خاموشی اختیار کر؛ کیونکہ یہ نماز میں شغل ہے اور تجھے امام کی قرات ہی کافی ہے۔
(ب) «أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ» ”قرآن کے لیے خاموشی اختیار کرو“ تب کہا جاتا ہے جب قرآن سنا جا رہا ہو نہ کہ اس وقت جب نہ سنا جا رہا ہو۔ (یعنی جہری قراءت میں آدمی سن سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں)۔
(ج) علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی، مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے قراءت کی ہے حتی کہ انہوں نے سورہ طہ کی آیت اونچی آواز سے پڑھی (جو مجھے سنائی دی) یعنی ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [سورة طه: 114] ”کہہ دیجیے! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔“
(د) ہمیں عبداللہ بن زیاد اسدی کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے سنا کہ وہ ظہر و عصر میں (امام کے پیچھے ہی) قراءت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2900]
(ب) «أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ» ”قرآن کے لیے خاموشی اختیار کرو“ تب کہا جاتا ہے جب قرآن سنا جا رہا ہو نہ کہ اس وقت جب نہ سنا جا رہا ہو۔ (یعنی جہری قراءت میں آدمی سن سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں)۔
(ج) علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی، مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے قراءت کی ہے حتی کہ انہوں نے سورہ طہ کی آیت اونچی آواز سے پڑھی (جو مجھے سنائی دی) یعنی ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [سورة طه: 114] ”کہہ دیجیے! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔“
(د) ہمیں عبداللہ بن زیاد اسدی کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے سنا کہ وہ ظہر و عصر میں (امام کے پیچھے ہی) قراءت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 3780»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2901
وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى وَرَاءَ الْإِمَامِ كَفَاهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ مَرْفُوعًا ⦗٢٣٠⦘ وَهُوَ خَطَأٌ وَسُوَيْدٌ تَغَيَّرَ بِآخِرِهِ فَكَثُرَ الْخَطَأُ فِي رِوَايَاتِهِ، وَرُوِيَ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَخَارِجَةُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْحَافِظَ هُوَ الْمَرْوَزِيُّ يَقُولُ: حَدِيثُ خَارِجَةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ" غَلَطٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ عَلَى أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُهُ قَالَ عَبْدَانُ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ:" إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أُصَلِّيَ صَلَاةً لَا أَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، كَذَا قَالَ".
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قراءت اسے کافی ہے۔“
(ب) ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» ”جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو امام کی قراءت ہی کافی ہے۔“
(ج) ابوازہر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس گھر (بیت اللہ) کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھوں۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ سوید بن سعید عن علی بن مسہر عن عبیداللہ کی سند سے اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور یہ غلطی ہے، سوید کا حافظہ آخر عمر میں بدل گیا تھا اس لیے ان کی روایات میں غلطیاں زیادہ ہو گئیں۔ خارجہ بن مصعب عن ایوب عن نافع کی سند سے بھی اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور خارجہ قابل حجت نہیں ہے۔ عبدان بن محمد حافظ مروزی فرماتے ہیں: خارجہ عن ایوب عن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» منکر غلطی ہے، یہ صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، اگرچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2901]
(ب) ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» ”جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو امام کی قراءت ہی کافی ہے۔“
(ج) ابوازہر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس گھر (بیت اللہ) کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھوں۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ سوید بن سعید عن علی بن مسہر عن عبیداللہ کی سند سے اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور یہ غلطی ہے، سوید کا حافظہ آخر عمر میں بدل گیا تھا اس لیے ان کی روایات میں غلطیاں زیادہ ہو گئیں۔ خارجہ بن مصعب عن ایوب عن نافع کی سند سے بھی اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور خارجہ قابل حجت نہیں ہے۔ عبدان بن محمد حافظ مروزی فرماتے ہیں: خارجہ عن ایوب عن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» منکر غلطی ہے، یہ صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، اگرچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ كَهْمَسٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، فَذَكَرَ قِصَّةً وَفِيهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ تَقْرَأُ؟ قَالَ:" إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا أَقْرَأُ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ" فَزَائِدًا أَوْ قَالَ: فَصَاعِدًا قَالَ يَعْقُوبُ: وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ نَحْوَهُ،" فَكَأَنَّهُ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا يُسِرُّ الْإِمَامُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ، وَعَلَى ذَلِكَ وَضَعَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.
(ا) ابوعالیہ براء سے روایت ہے کہ عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ ہر نماز میں قراءت کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس گھر یعنی بیت اللہ کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ایسی دو رکعتیں پڑھوں جن میں سورہ فاتحہ یا اس سے زیادہ نہ پڑھوں۔ ایک روایت میں «فَزَائِدًا» کے الفاظ ہیں، دوسری میں «فَصَاعِدًا» کے الفاظ ہیں۔
(ب) گویا وہ قراءت خلف الامام کو صرف ان نمازوں میں درست خیال کرتے تھے جن میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، یعنی سری نمازوں میں۔ اسی پر مالک بن انس رحمہ اللہ نے (اپنے مذہب کی) بنیاد رکھی، ان سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2902]
(ب) گویا وہ قراءت خلف الامام کو صرف ان نمازوں میں درست خیال کرتے تھے جن میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، یعنی سری نمازوں میں۔ اسی پر مالک بن انس رحمہ اللہ نے (اپنے مذہب کی) بنیاد رکھی، ان سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2626»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا أُسَامَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَ" ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ جَهَرَ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ، وَكَانَ رِجَالٌ أَئِمَّةٌ يَقْرَءُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ" كَذَا رَوَاهُ، وَالْمُثْبِتُ أَوْلَى مِنَ النَّافِي.
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے، چاہے سری نماز ہو یا جہری، جبکہ دیگر حضرات امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 192»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2904
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ:" إِنْ قَرَأْتَ فَقَدْ قَرَأَ قَوْمٌ كَانَ فِيهِمْ أُسْوَةٌ، وَالْأَخْذُ بِأَمْرِهِمْ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَقَدْ تَرَكَ قَوْمٌ كَانَ فِيهِمْ أُسْوَةٌ" قَالَ:" وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ".
اسامہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے قراءت خلف الإمام کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر آپ قراءت کریں تو عظیم لوگوں نے بھی قراءت کی ہے جن کی زندگیاں نمونہ ہیں اور ان کی سیرت پر عمل کیا جاتا ہے اور اگر آپ قراءت نہ کریں تب بھی ایسے کئی لوگوں نے قراءت نہیں کی جن کی زندگیاں ہمارے لیے نمونہ ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قراءت نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2904]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قراءت نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2904]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2905
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، وَابْنُ صَاعِدٍ، قَالَا ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" مَنْ ذَا الَّذِي يُخَالِجُنِي سُورَتِي؟" فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلَهُ:" فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ" تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ حَجَّاجٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ، شُعْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَعْمَرٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَحَجَّاجٌ، وَأَيُّوبُ بْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَهَمَّامٌ، وَأَبَانُ وَسَعِيدُ بْنُ بِشْرٍ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا تَفَرَّدَ بِهِ حَجَّاجٌ، قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ قَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَى عَنْهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے (اونچی آواز میں) پڑھ رہا تھا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کون ہے جو مجھ سے میری سورت (جو میں پڑھ رہا تھا) چھین رہا تھا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرما دیا۔ حجاج اس روایت میں متفرد ہیں۔
ابن صاعد کہتے ہیں کہ ان کے قول «فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ...» ”پس امام کے پیچھے قراءت سے منع فرما دیا...“ کو روایت کرنے میں حجاج اکیلا ہے۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟ انہوں نے کہا: اگر اسے ناپسند سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2905]
ابن صاعد کہتے ہیں کہ ان کے قول «فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ...» ”پس امام کے پیچھے قراءت سے منع فرما دیا...“ کو روایت کرنے میں حجاج اکیلا ہے۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟ انہوں نے کہا: اگر اسے ناپسند سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2905]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الا زياده ’’فنهي عن القرأة خلفه‘‘ منكره»
الحكم على الحديث: صحيح