السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
614. -- باب: جواز فعلها في المسجد
-- باب: ان (نوافل) کو مسجد میں ادا کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 3041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ وَالْجُمُعَةُ فَفِي بَيْتِهِ" وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ، وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ زُهَيْرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى فِعْلِ السَّجْدَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَالسَّجْدَتَيْنِ بَعْدَهَا فِي الْمَسْجِدِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ظہر کے بعد اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دو رکعات عشاء کے بعد اور دو رکعتیں جمعہ کے بعد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب، عشاء اور جمعہ کی (نفل) رکعتیں اپنے گھر میں ادا فرماتے تھے۔
(ب) مجھے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز ادا کرنے سے پہلے اور طلوع فجر کے بعد دو مختصر رکعتیں ادا فرماتے اور یہ ایسا وقت ہوتا تھا کہ اس میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتی تھی۔
(ج) اس حدیث مبارکہ میں اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی دو رکعت اور بعد کی دو رکعت مسجد میں ادا فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3041]
(ب) مجھے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز ادا کرنے سے پہلے اور طلوع فجر کے بعد دو مختصر رکعتیں ادا فرماتے اور یہ ایسا وقت ہوتا تھا کہ اس میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتی تھی۔
(ج) اس حدیث مبارکہ میں اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی دو رکعت اور بعد کی دو رکعت مسجد میں ادا فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 937»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، أنبأ طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ" رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ، وَثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَذَا زَمَانًا، وَمَا رَوَى ابْنُ عُمَرَ مِنْ رَكْعَتَيِ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ زَمَانًا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتوں میں اتنی لمبی قراءت کرتے کہ مسجد کے لوگ (نماز سے فارغ ہو کر) چلے جاتے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عرصہ اس طرح کرتے رہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو مغرب کی دو رکعتیں اپنے گھر میں ادا کرنے کے بارے میں روایت کیا وہ بھی ایک دور تھا۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3042]
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عرصہ اس طرح کرتے رہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو مغرب کی دو رکعتیں اپنے گھر میں ادا کرنے کے بارے میں روایت کیا وہ بھی ایک دور تھا۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف