السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
621. -- باب: كيفية الجهر
-- باب: بلند آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 3070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ" إِذَا صَلَّى رَفَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا ⦗٢٧٨⦘ الْقُرْآنَ وَمَنْ نَزَلَ بِهِ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] أَسْمِعْ أَصْحَابَكَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ آپ جب نماز پڑھتے تو اونچی قراءت کرتے۔ جب مشرکوں نے قرآن سنا تو انھوں نے قرآن کو برا بھلا کہا اور قرآن نازل کرنے والے اور لے کر آنے والے کو بھی برا بھلا کہا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”کہ اے نبی! نہ اپنی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کر اور نہ ہی بالکل آہستہ پڑھ۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ صرف اپنے ساتھیوں کو سناؤ۔ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے ساتھی قرآن سن کر یاد کر لیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اپنی نماز میں اونچی قراءت نہ کر۔“ تاکہ مشرکین آپ کی قراءت نہ سن لیں ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور نہ ہی بہت زیادہ آہستہ۔“ بلکہ اپنے ساتھیوں کو قرآن سناؤ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کر۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے صحابہ آپ سے سن کر یاد کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3070]
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اپنی نماز میں اونچی قراءت نہ کر۔“ تاکہ مشرکین آپ کی قراءت نہ سن لیں ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور نہ ہی بہت زیادہ آہستہ۔“ بلکہ اپنے ساتھیوں کو قرآن سناؤ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کر۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے صحابہ آپ سے سن کر یاد کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 7490»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3071
وَعَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ هُشَيْمٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ اللهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠] " فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: يَقُولُ: بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا هُشَيْمٌ، فَذَكَرَهُ.
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3071]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ و قد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3072
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَإِنَّ قِرَاءَتَهُ كَانَتْ تُسْمَعُ عِنْدَ دَارِ أَبِي جَهْمٍ بِالْبَلَاطِ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هُوَ الْبُوشَنْجِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، الْبَلَاطُ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ قَرِيبٌ مِنَ السُّوقِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَقْتِ الَّذِي جَهَرَ فِيهِ عُمَرُ هَذَا الْجَهْرَ مَا كَانَ فِي وَقْتِ نُزُولِ الْآيَةِ مِنْ خَوْفِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يَنَالُوا مِنْهُ.
(ا) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز میں جہری قراءت کیا کرتے تھے اور ان کی قراءت کی آواز ”بلاط“ میں ابو جہم کے گھر کے پاس سنی جاسکتی تھی۔
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہری قراءت کرتے تھے اس وقت مشرکین کی طرف سے وہ خوف نہیں تھا جو آیت کے نزول کے وقت تھا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3072]
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہری قراءت کرتے تھے اس وقت مشرکین کی طرف سے وہ خوف نہیں تھا جو آیت کے نزول کے وقت تھا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 180»
الحكم على الحديث: صحيح