السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
623. -- باب: القنوت في الصلوات عند نزول نازلة
-- باب: کوئی مصیبت نازل ہونے پر نمازوں میں قنوت پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3094
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءُ فِي زَمَانِهِمْ كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ وَغَدَرُوا بِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى ⦗٢٨٤⦘ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ قَالَ أَنَسٌ فَقَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا، ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ (بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ النَّرْسِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لوگوں نے دشمن کے خلاف مدد کی درخواست کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا، ان کو ہم اپنے زمانے کے قراء کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کو قیام کرتے تھے حتیٰ کہ جب یہ بئرِ معونہ کے مقام پر پہنچے تو ان مذکورہ قبائل نے انہیں شہید کر دیا اور ان کے ساتھ دھوکا کیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قبائلِ عرب کے کچھ قبیلوں رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ان کے بارے میں قرآن پڑھتے رہے، پھر یہ حکم اٹھا لیا گیا: ”ہماری قوم کے افراد کو پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے، وہ ہم سے راضی ہو گیا اور اس نے ہمیں راضی کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3094]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 3862»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3095
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ، مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ وَأَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَلَحْيَانَ"، وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَأَبُو مِجْلَزٍ لَاحَقُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، وَمُوسَى بْنُ أَنَسٍ وَعَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: شَهْرًا وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ كَذَلِكَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا، وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ، فَقَالَ: أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَالصَّحِيحُ ثَلَاثِينَ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ هَمَّامٍ وَرُوِيَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْعُرَنِيِّينَ قَالَ: فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ بَعْدَ أَنْ دَعَا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاتِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً وَتِلْكَ الْقِصَّةُ غَيْرُ هَذِهِ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ حُمَيْدٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ مَا.
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غمگین اور پریشان کبھی نہیں دیکھا جتنا بئر معونہ والوں اور سریہ منذر بن عمرو کی وجہ سے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک فجر کی نماز میں ان لوگوں پر بددعا کرتے رہے جنہوں نے ان صحابہ کو شہید کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے تھے۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ، عبدالعزیز بن صہیب رحمہ اللہ، ابو مجلز لاحق بن حمید رحمہ اللہ، انس بن سیرین رحمہ اللہ، موسیٰ بن انس رحمہ اللہ اور عاصم بن سلیمان احول رحمہ اللہ سب حضرات سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے «شَهْرًا» ”ایک مہینہ“ کے الفاظ روایت کرتے ہیں، یعنی ایک مہینہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی۔
(ج) مالک بن انس رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح تیس دن روایت کیا ہے اور ہمام رحمہ اللہ، اسحاق رحمہ اللہ کے واسطے سے چالیس دن روایت کرتے ہیں۔
(د) 30 دن والی روایت صحیح ہے۔
(ہ) حمید طویل رحمہ اللہ سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عرنیین کا قصہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ان پر پچیس مرتبہ بددعا کی۔ اس کے بعد ان کے پیچھے دستہ روانہ کیا، یہ دونوں الگ الگ قصے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3095]
(ب) قتادہ رحمہ اللہ، عبدالعزیز بن صہیب رحمہ اللہ، ابو مجلز لاحق بن حمید رحمہ اللہ، انس بن سیرین رحمہ اللہ، موسیٰ بن انس رحمہ اللہ اور عاصم بن سلیمان احول رحمہ اللہ سب حضرات سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے «شَهْرًا» ”ایک مہینہ“ کے الفاظ روایت کرتے ہیں، یعنی ایک مہینہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی۔
(ج) مالک بن انس رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح تیس دن روایت کیا ہے اور ہمام رحمہ اللہ، اسحاق رحمہ اللہ کے واسطے سے چالیس دن روایت کرتے ہیں۔
(د) 30 دن والی روایت صحیح ہے۔
(ہ) حمید طویل رحمہ اللہ سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عرنیین کا قصہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ان پر پچیس مرتبہ بددعا کی۔ اس کے بعد ان کے پیچھے دستہ روانہ کیا، یہ دونوں الگ الگ قصے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 3/ 194»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3096
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ شَبَابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَتَنَحَّوْنَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ يَحْسَبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَحْسَبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ فَيُصَلُّونَ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى إِذَا تَقَارَبَ الصُّبْحُ احْتَطَبَ بَعْضُهُمْ، وَاسْتَقَى بَعْضُهُمْ مِنَ الْمَاءِ الْعَذْبِ ثُمَّ يُقْبِلُونَ حَتَّى يَضَعُوا حِزَمَهُمْ وَقِرَبَهُمْ عَلَى أَبْوَابِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ فَاسْتُشْهِدُوا كُلُّهُمْ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فَدَعَا عَلَى مَنْ قَتَلَهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا ⦗٢٨٥⦘ وَالرِّوَايَاتُ فِي الشَّهْرِ أَشْهَرُ وَأَكْثَرُ وَأَصَحُّ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنْ أَنَسٍ فِي إِثْبَاتِ الْقُنُوتِ فِي صَّلَاةِ الصُّبْحِ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ فِي الْمَغْرِبِ أَيْضًا.
(ا) حمید طویل سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انصار کے نوجوان غور سے قرآن سنتے، پھر مدینہ کے ایک گوشے میں علیحدہ ہو کر بیٹھ جاتے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ شاید وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے سمجھتے کہ وہ گھر پر ہیں، وہ رات کو نمازیں پڑھتے رہتے حتیٰ کہ جب صبح کا وقت قریب آتا تو بعض لکڑیاں جمع کرنے چلے جاتے، بعض تازہ پانی لانے چل پڑتے، پھر وہ واپس آتے اپنی گٹھڑیاں اور مشکیزے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بئر معونہ کی طرف بھیجا تو وہاں ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ راتوں تک ان کے قاتلوں پر بددعا کی۔
(ب) اسی طرح اس کو علقمہ بن ابی علقمہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قاتلوں پر پندرہ دن بددعا کی۔
(ج) اسی طرح جعفر بن محمد نے بھی اپنے والد سے مرسل روایت نقل کی ہے جو پندرہ دن کے بارے میں ہے۔
(د) لیکن مہینہ والی روایات زیادہ مشہور، واضح اور زیادہ صحیح ہیں۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے“۔ اکثر روایات سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز میں قنوت کے اثبات کی ہیں، اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مغرب کی نماز میں بھی ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3096]
(ب) اسی طرح اس کو علقمہ بن ابی علقمہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قاتلوں پر پندرہ دن بددعا کی۔
(ج) اسی طرح جعفر بن محمد نے بھی اپنے والد سے مرسل روایت نقل کی ہے جو پندرہ دن کے بارے میں ہے۔
(د) لیکن مہینہ والی روایات زیادہ مشہور، واضح اور زیادہ صحیح ہیں۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے“۔ اکثر روایات سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز میں قنوت کے اثبات کی ہیں، اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مغرب کی نماز میں بھی ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3096]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 3/ 235»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3097
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَهْبٌ هُوَ ابْنُ بَقِيَّةَ، أنبأ خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ هُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْغَدَاةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَقَالَ: كَانَ الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْقِصَّةِ الَّتِي رَوَاهَا أَنَسٌ فِي جَمِيعِ الصَّلَوَاتِ.
(ا) ابو قلابہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قنوت فجر اور مغرب کی نماز میں ہے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ہے کہ قنوت مغرب اور فجر کی نماز میں ہوتی ہے۔
(ج) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس قصہ میں تمام نمازوں میں منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3097]
(ب) ایک دوسری روایت میں ہے کہ قنوت مغرب اور فجر کی نماز میں ہوتی ہے۔
(ج) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس قصہ میں تمام نمازوں میں منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2765»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3098
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَعَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنْ مَنْ خَلْفَهُ، وَكَانَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ" قَالَ عِكْرِمَةُ هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورا مہینہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہنے کے بعد قنوت پڑھتے رہے اور قبائل عرب میں سے بنو سلیم کے رعل، ذکوان اور عصیہ کے لیے بددعا کرتے رہے اور مقتدی آمین کہتے اور یہ (شہدا) وہ لوگ تھے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت کے لیے بھیجا تھا تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہاں سے قنوت شروع ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/ 301»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3099
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَا: أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ:" اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لَحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةُ عَصَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ الْعَنْ...» ”اے اللہ! بنو لحیان، رعل اور ذکوان پر لعنت بھیج اور عصیہ پر بھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور بنو غفار کو اللہ معاف کرے اور بنو اسلم کو سلامت رکھے۔“
(٢٩٣) «بَابُ تَرْكِ الْقُنُوتِ فِي سَائِرِ الصَّلَوَاتِ غَيْرِ الصُّبْحِ عِنْدَ ارْتِفَاعِ النَّازِلَةِ وَفِي صَلَاةِ الصُّبْحِ لِقَوْمٍ أَوْ عَلَى قَوْمٍ بِأَسْمَائِهِمْ أَوْ قَبَائِلِهِمْ»
آفت ختم ہونے کے بعد صبح کی نماز کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت چھوڑ دینے کا بیان اور صبح کی نماز میں کسی قوم کے حق میں یا ان کے خلاف ان کے نام یا قبائل کے نام لے کر بددعا کرنے کا بیان۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3099]
(٢٩٣) «بَابُ تَرْكِ الْقُنُوتِ فِي سَائِرِ الصَّلَوَاتِ غَيْرِ الصُّبْحِ عِنْدَ ارْتِفَاعِ النَّازِلَةِ وَفِي صَلَاةِ الصُّبْحِ لِقَوْمٍ أَوْ عَلَى قَوْمٍ بِأَسْمَائِهِمْ أَوْ قَبَائِلِهِمْ»
آفت ختم ہونے کے بعد صبح کی نماز کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت چھوڑ دینے کا بیان اور صبح کی نماز میں کسی قوم کے حق میں یا ان کے خلاف ان کے نام یا قبائل کے نام لے کر بددعا کرنے کا بیان۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 679»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3100
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَقَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ بَعْدَمَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ شَهْرًا يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ:" اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللهُمَّ ⦗٢٨٦⦘ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ" وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الرَّازِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَذَكَرَ عَيَّاشًا وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ، فَقُلْتُ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ قَالَ: فَقِيلَ وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کی آخری رکعت میں قنوت پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد ایک ماہ تک پڑھتے رہے: «اللّٰهُمَّ نَجِّ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللّٰهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» ”الٰہی ولید بن ولید کو نجات دے۔ الٰہی! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مضر پر اپنی پکڑ سخت کر۔ اے اللہ! ان پر قحط یوسف کی طرح لمبا عرصہ تک عذاب کو مسلط رکھ۔“
ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔ اس میں انہوں نے عیاش بن ابی ربیعہ کا ذکر نہیں کیا اور اس کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا نہیں کی تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا، وہ تو کفار سے نجات پا کر آ چکے ہیں۔“
امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت بیان کی، مگر انہوں نے عیاش کا ذکر بھی کیا اور اس کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔ میں نے کہا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔“ تو کہا گیا: ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ نجات پا کر آ چکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3100]
ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔ اس میں انہوں نے عیاش بن ابی ربیعہ کا ذکر نہیں کیا اور اس کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا نہیں کی تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا، وہ تو کفار سے نجات پا کر آ چکے ہیں۔“
امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت بیان کی، مگر انہوں نے عیاش کا ذکر بھی کیا اور اس کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔ میں نے کہا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔“ تو کہا گیا: ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ نجات پا کر آ چکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضٰي في الحديث 3084، اول الباب»
الحكم على الحديث: صحيح