السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
643. -- باب: الترغيب في أن تكثف ثيابها أو تجعل تحت درعها ثوبا إن خشيت أن يصفها درعها
-- باب: اس بات کی ترغیب کہ عورت اپنے کپڑے دبیز (موٹے) رکھے یا اپنی قمیص کے نیچے کوئی اور کپڑا پہن لے اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ قمیص سے اس کے جسم کی ساخت ظاہر ہو جائے گی
حدیث نمبر: 3258
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالُوا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" يَرْحَمُ اللهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، لَمَّا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: ٣١] " شَقَقْنَ أَكْنَفَ قَالَ ابْنُ صَالِحٍ:" أَكْثَفَ مُرُوطِهِنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم کرے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل کی: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] ”(مسلمان عورتوں کو) چاہیے کہ وہ اپنے دوپٹوں کو اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔“ تو ان عورتوں نے اپنی چادریں پھاڑ ڈالیں۔
ابن صالح کہتے ہیں: اپنی چادروں کو دوہرا کر لیا اور ان کے ساتھ وہ پردہ کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3258]
ابن صالح کہتے ہیں: اپنی چادروں کو دوہرا کر لیا اور ان کے ساتھ وہ پردہ کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 4481»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3259
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الزَّاهِدُ بِبَغْدَادَ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزَّبْرِقَانِ قَالَ: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: ٣١] أَخَذَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ أُزُرَهُنَّ فَشَقَقْنَهُ مِنْ نَحْوَ الْحَوَاشِي فَاخْتَمَرْنَ بِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آیت ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] نازل ہوئی تو انصار کی عورتوں نے اپنے تہبند کناروں سے پھاڑ لیے اور وہ ان کے ساتھ پردہ کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 2128»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3260
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالُوا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَطُّ: قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَمْثَالِ أَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں کہ میں نے انہیں نہیں دیکھا: (١) وہ لوگ کہ ان کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ وہ لوگوں کو مار رہے ہوں گے اور وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی: خود بھی مائل ہونے والی اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی، ان کے سر اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ یہ عورتیں نہ ہی جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے بھی آ جاتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود 4116»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3261
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّ عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ قَالَ: بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ، فَلَمَّا رَجَعَ أَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً فَقَالَ:" اجْعَلْ صَدْعَيْهَا قَمِيصًا وَأَعْطِ صَاحِبَتَكَ صَدِيعًا تَخْتَمِرُ بِهِ" فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ:" مُرْهَا تَجْعَلُ تَحْتَهُ شَيْئًا لِئَلَّا يَصِفَ" وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: مَنْ قَالَ: ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَكْثَرُ،، وَذَكَرَ فِيمَنْ قَالَ: ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ.
سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہرقل کی طرف روانہ کیا، جب وہ لوٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبطی چادر عطا کی اور فرمایا: ”اس کے نصف حصہ سے قمیص بناؤ اور دوسرا آدھا حصہ اپنی اہلیہ کو دے دو تاکہ وہ اس سے اوڑھنی بنا لے۔“ جب وہ چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بلا کر فرمایا: ”اپنی بیوی کو حکم دینا کہ وہ اس کے نیچے کوئی اور کپڑا رکھ لے تاکہ اس کا جسم نظر نہ آئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3262
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً أَهْدَاهَا لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ لَا تَلْبَسُ الْقُبْطِيَّةَ؟" قُلْتُ: كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي، فَقَالَ:" مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ عِظَامَهَا".
محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد (سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک موٹی قبطی چادر پہنائی جو انہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے تحفہ کی تھی۔ میں نے وہ چادر اپنی زوجہ محترمہ کو پہنا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے خود کیوں نہیں رکھی؟“ میں نے کہا: میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کو کہہ دو کہ اس کے نیچے کوئی بنیان یا شمیز پہن لے، مجھے ڈر ہے کہ اس کی ہڈیاں نظر نہ آنے لگیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه من طريق آخر ابن ابي شيبة 24792»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3263
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَسَا النَّاسَ الْقَبَاطِيَّ ثُمَّ قَالَ:" لَا تَدْرَعَنَّهَا نِسَاؤُكُمْ" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَلْبَسْتُهَا امْرَأَتِي فَأَقْبَلَتْ فِي الْبَيْتِ وَأَدْبَرَتْ فَلَمْ أَرَهُ يَشِفُّ، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنْ لَمْ يَكُنْ يَشِفُّ فَإِنَّهُ يَصِفُ" وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عُمَرَ، وَلِمَعْنَى هَذَا الْمُرْسَلِ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.
عبداللہ بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قبطی کپڑے پہنائے، پھر فرمایا: ”اس سے اپنی عورتوں کی قمیص نہ بنانا۔“ تو ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی ہے، اس کے بعد وہ گھر میں چلی پھری لیکن میں نے اس میں باریکی نہیں دیکھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر وہ باریک (جھلکنے والا) نہیں ہے تو بھی وہ (جسم کی) بناوٹ ظاہر کرتا ہے۔“
اس مرسل روایت کے معنی کی ایک شاہد روایت موصول سند سے موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3263]
اس مرسل روایت کے معنی کی ایک شاہد روایت موصول سند سے موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن منيع كما في كنزالعمال 21713»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3264
أَخْبَرَنَاهُ الْفَقِيهُ أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الصَّفَّارُ قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ دِرْعٍ وَخِمَارٍ وَإِزَارٍ" وَرُوِّينَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا" صَلَّتْ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ ثُمَّ، قَالَتْ: نَاوِلِينِي الْمِلْحَفَةَ" وَعَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ ذَلِكَ، وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْخِمَارِ: فَقَالَتْ إِنَّمَا الْخِمَارُ مَا وَارَى الْبَشَرَةَ وَالشَّعَرَ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے: قمیص، چادر میں اور تہبند میں۔“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے قمیص اور چادر میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”مجھے اوڑھنے والی چادر دے دو۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اوڑھنی کے بارے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”چادر وہ ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کو ڈھانپ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3264]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے قمیص اور چادر میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”مجھے اوڑھنے والی چادر دے دو۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اوڑھنی کے بارے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”چادر وہ ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کو ڈھانپ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1625»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3265
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَعَلَى حَفْصَةَ خِمَارٌ رَقِيقٌ فَشَقَّتْهُ عَائِشَةُ وَكَسَتْهَا خِمَارًا كَثِيفًا".
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ حفصہ بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئیں اور سیدہ حفصہ پر ایک باریک چادر تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پھاڑ دیا اور انھیں ایک موٹی چادر پہنا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابو عبيد في غريب الحديث 4/ 312»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَبِكُ تَحْتَ الدِّرْعِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ أَنْبَأَهُ حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ شَبِيبٍ، عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الِاحْتِبَاكُ: شَدُّ الْإِزَارِ، وَإِحْكَامُهُ، يَعْنِي أَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي إِلَّا مُؤْتَزِرَةً.
(ا) ابوعبید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نماز میں قمیص کے نیچے کمر بند یا پیٹی باندھ لیا کرتی تھیں۔
(ب) ابو عبید کہتے ہیں: «اَلِاحْتِبَاكُ» سے مراد تہبند کو مضبوطی سے باندھنا ہے، یعنی وہ کمر بند کس کر نماز پڑھتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3266]
(ب) ابو عبید کہتے ہیں: «اَلِاحْتِبَاكُ» سے مراد تہبند کو مضبوطی سے باندھنا ہے، یعنی وہ کمر بند کس کر نماز پڑھتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوعبيد في غريب الحديث 4/ 333»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3267
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَرِهَتْ أَنْ تُصَلِّيَ الْمَرْأَةُ عَطَلًا وَلَوْ أَنْ تُعَلِّقَ فِي عُنُقِهَا خَيْطًا" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنِيهِ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: عَطَلًا يَعْنِي الَّتِي لَا حُلِيَّ عَلَيْهَا، ⦗٣٣٣⦘ وَثَابِتٌ عَنْ عَائِشَةَ فِي نِسَاءٍ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ الصَّلَاةَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ.
(ا) ابوعبید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ عورت کے بے زیور نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتی تھیں، اگرچہ وہ اپنی گردن میں کوئی دھاگا ہی لٹکا لے۔
(ب) ابوعبید کہتے ہیں: «عَطَلًا» سے مراد وہ عورت ہے جو زیور سے خالی ہو۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مومن عورتوں کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) نماز میں شریک ہوتی تھیں اور اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3267]
(ب) ابوعبید کہتے ہیں: «عَطَلًا» سے مراد وہ عورت ہے جو زیور سے خالی ہو۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مومن عورتوں کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) نماز میں شریک ہوتی تھیں اور اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 365»
الحكم على الحديث: صحيح