السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
649. -- باب: الدليل على أنه يزره إن كان جيبه واسعا ويدعه إن كان ضيقا
-- باب: اس بات کی دلیل کہ اگر قمیص کا گریبان کشادہ ہو تو اس کے بٹن لگا لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
حدیث نمبر: 3294
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَزِرَّهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ" ⦗٣٤٠⦘ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں شکار کھیلتا ہوں تو کیا میں ایک قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پڑھ سکتے ہو۔ اسے باندھ لو اگرچہ ایک کانٹے سے ہی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3294]
حدیث نمبر: 3295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ" وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي قَمِيصٍ مَحْلُولَةٍ أَزْرَارُهُ مَخَافَةَ أَنْ يُرَى فَرْجُهُ إِذَا رَكَعَ حَتَّى يَزُرَّهُ قَالَ يَحْيَى: إِذْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَزْرَارٌ وَهَذَا إِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَهُوَ مُوَافِقٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَهُ.
(ا) یزید بن خمیر سے روایت ہے کہ میں نے قریش کے ایک غلام کو کہتے ہوئے سنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب تک کہ کمر پر پٹی نہ باندھ لی جائے“۔
(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کے بٹن کھلے ہوں“، اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جا سکے، اسے چاہیے کہ باندھ لے۔
یہ روایت اگرچہ منقطع ہے، لیکن اپنے سے پہلے والی متصل روایت کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3295]
(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کے بٹن کھلے ہوں“، اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جا سکے، اسے چاہیے کہ باندھ لے۔
یہ روایت اگرچہ منقطع ہے، لیکن اپنے سے پہلے والی متصل روایت کے موافق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3295]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابن سعد في الطبقات 4/ 175»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3296
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي مَحْلُولٌ أَزْرَارُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا أَتَّقِي هَذَا الشَّيْخَ كَأَنَّ حَدِيثَهُ مَوْضُوعٌ وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي بِزُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ هَذَا الشَّيْخَ وَيَقُولُ: هَذَا شَيْخٌ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونُوا قَلَبُوا اسْمَهُ، وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى بَعْضِ هَذَا فِي التَّارِيخِ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ دُونَ السَّنَدِ.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا اور ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں زہیر بن محمد منفرد ہیں۔ امام ترمذی سے مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے زہیر کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اس شیخ سے بچتا ہوں، گویا اس کی حدیث موضوع ہے، اور میرے نزدیک یہ زہیر بن محمد نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل اس شیخ کو ضعیف قرار دیتے اور فرماتے: یہ ایسا شیخ ہے کہ لگتا ہے لوگوں نے اس کا نام الٹ دیا ہے۔ امام بخاری نے التاریخ میں اس میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3296]
اس روایت کو بیان کرنے میں زہیر بن محمد منفرد ہیں۔ امام ترمذی سے مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے زہیر کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اس شیخ سے بچتا ہوں، گویا اس کی حدیث موضوع ہے، اور میرے نزدیک یہ زہیر بن محمد نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل اس شیخ کو ضعیف قرار دیتے اور فرماتے: یہ ایسا شیخ ہے کہ لگتا ہے لوگوں نے اس کا نام الٹ دیا ہے۔ امام بخاری نے التاریخ میں اس میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وله طريق آخر عند البخاري في تاريخ 8/ 174۔ وسنده ايضا ضعيف»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3297
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ:" مَا رَأَيْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ" قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا حَازِمٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُصَلُّونَ وَأَزْرَارُ قُمُصِهِمْ مُطْلَقَةٌ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلُ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَفْسِهِ وَهُوَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا لَوْ كَانَ الْجَيْبُ ضَيِّقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعید بن ابی ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عبیداللہ بن عمر کو ہمیشہ قمیص کے بٹن کھولے ہوئے ہی دیکھا۔
سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے زہرہ بن معبد قرشی رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ، ابو حازم رحمہ اللہ اور محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے بٹن کھلے ہوتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3297]
سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے زہرہ بن معبد قرشی رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ، ابو حازم رحمہ اللہ اور محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو دیکھا، یہ حضرات نماز پڑھتے اور ان کی قمیصوں کے بٹن کھلے ہوتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی ہمیں روایت بیان کی گئی جس طرح کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
اور وہ جب نماز میں ہوتے، ہمارے نزدیک یہ اس صورت پر محمول ہوگا جب گریبان تنگ ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 4/ 23»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره