السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
660. -- باب: ما يقول إذا نابه شيء في صلاته
-- باب: جب نمازی کو اپنی نماز میں کوئی پیش آمدہ معاملہ درپیش ہو تو وہ کیا کہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3329
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، ⦗٣٤٩⦘ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِيَ رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے گئے (آپ کو تاخیر ہوگئی) اور نماز کا وقت آپہنچا، مؤذن (بلال رضی اللہ عنہ) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”کیا آپ نماز پڑھائیں گے تو میں تکبیر کہوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”اچھا۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانا شروع کر دی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف چیرتے ہوئے اندر گھسے اور پہلی صف میں جا کر ٹھہرے، لوگوں نے دستک دینی شروع کر دی۔ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر دھیان نہیں کرتے تھے، جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو پھر انہوں نے التفات کیا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ نماز پڑھاتے جاؤ۔“ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ امامت کیے جاؤ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے سرک آئے اور پہلی صف میں مل گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! تم اپنی جگہ پر کیوں نہ ٹھہرے رہے جبکہ میں تمہیں حکم دے چکا تھا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے امامت کروائے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے نماز میں اتنی تالیاں کیوں بجائیں؟ کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہے، جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف دھیان ہوگا اور تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 652۔ مسلم 421»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ، فَخَرَجَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللهِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ إِلَّا الْتَفَتَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَاهُ أَيْضًا.
(ا) سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا کہ بنی عمرو بن عوف میں کوئی اختلاف ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں صلح کرنے نکلے۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو تم تالیاں بجانا شروع کر دیتے ہو؟ تالیاں بجانا تو عورتوں کے لیے ہے۔ اگر نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہو۔ جب کوئی «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہے تو جو سنے گا وہ ضرور متوجہ ہو گا۔“
(ب) بخاری و مسلم کی روایت میں دوسری سند سے ہے اس میں «تَصْفِیْق» کی جگہ «تَصْفِیْح» کا لفظ ہے اور سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: «تَصْفِیْح» ہی «تَصْفِیْق» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3330]
(ب) بخاری و مسلم کی روایت میں دوسری سند سے ہے اس میں «تَصْفِیْق» کی جگہ «تَصْفِیْح» کا لفظ ہے اور سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: «تَصْفِیْح» ہی «تَصْفِیْق» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3331
عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: التَّصْفِيحُ بَدَلَ التَّصْفِيقِ، وَقَالَ سَهْلٌ: التَّصْفِيحُ هُوَ التَّصْفِيقُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ثنا قُتَيْبَةُ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ" فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ" إِلَى آخِرِ مَا نَقَلْنَا.
یہی روایت ایک اور سند سے منقول ہے، اس کے آخر میں «فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ» سے آخر تک الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" التَّسْبِيحُ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ دُونَ قَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَقَدْ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ وَجَمَاعَةٌ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَذَكَرُوا هَذِهِ اللَّفْظَةَ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں امام کو غلطی پر متنبہ کرنا ہو تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہیں اور خواتین ہاتھ پر ہاتھ ماریں۔“
(ب) بخاری و مسلم نے اسے سفیان بن عیینہ کی حدیث سے «فِي الصَّلَاةِ» ”نماز میں“ کے الفاظ کے بغیر نقل کیا ہے، جبکہ حمیدی اور ایک جماعت نے ابن عیینہ سے یہ الفاظ بھی ذکر کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3332]
(ب) بخاری و مسلم نے اسے سفیان بن عیینہ کی حدیث سے «فِي الصَّلَاةِ» ”نماز میں“ کے الفاظ کے بغیر نقل کیا ہے، جبکہ حمیدی اور ایک جماعت نے ابن عیینہ سے یہ الفاظ بھی ذکر کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1145۔ مسلم 422»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3333
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ⦗٣٥٠⦘ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(امام کو غلطی پر خبردار کرنے کے لیے) مرد «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3334
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّسَوِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْهُمَا وَقَالَ: فِي الصَّلَاةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز میں امام کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لیے) مرد «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہیں اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے بہت سے اہل علم کو دیکھا ہے، وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ بھی کہتے ہیں اور اشارے بھی کرتے ہیں۔
ایک روایت میں «فِي الصَّلَاةِ» ”نماز میں“ کے الفاظ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3334]
ایک روایت میں «فِي الصَّلَاةِ» ”نماز میں“ کے الفاظ بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا لفظ مسلم 422 وانظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3335
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلْقَوْمِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کے لیے تسبیح کہنا ہے اور عورتوں کے لیے نماز میں (خبردار کرنے کے لیے) تالی بجانا (مباح) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3336
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو عُمَرَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کے لیے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3337
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: قَدْ كَانَتْ أُمِّي تَفْعَلُهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ.
اعمش رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح کیا کرتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3338
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَّاءُ، وَقَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، ⦗٣٥١⦘ عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتُؤْذِنَ عَلَى الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذْنُهُ التَّسْبِيحُ، وَإِذَا اسْتُؤْذِنَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَهِيَ تُصَلِّي فِإِذْنُهَا التَّصْفِيقُ" وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَتْ لِي سَاعَةٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ وَكَانَ ذَلِكَ إِذْنَهُ لِي" فَهُوَ حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ، فَقِيلَ سَبَّحَ وَقِيلَ تَنَحْنَحَ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِيهِ نَظَرٌ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ عَنْ رِوَايَتِهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی سے دورانِ نماز اجازت طلب کی جائے تو اس کا اجازت دینا «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا ہے اور اگر کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اس سے کوئی اجازت طلب کرے تو اس کا اجازت دینا تالی بجانا ہے۔“
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا وقت سحری کے وقت مخصوص تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہتے، یہی آپ کی طرف سے مجھے اجازت ہوتی تھی۔
(ج) یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے مختلف ہے، ایک قول کے مطابق «سَبَّحَ» ”سبح“ ہے اور دوسرے قول کے مطابق «تَنَحْنَحَ» ”تنحنح“ ہے۔
اس کا دارومدار عبدالرحمن بن نجی حضرمی پر ہے، امام بخاری نے اس کے بارے میں کہا: «فِيهِ نَظَرٌ» ”اس میں نظر ہے“ اور دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3338]
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا وقت سحری کے وقت مخصوص تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہتے، یہی آپ کی طرف سے مجھے اجازت ہوتی تھی۔
(ج) یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے مختلف ہے، ایک قول کے مطابق «سَبَّحَ» ”سبح“ ہے اور دوسرے قول کے مطابق «تَنَحْنَحَ» ”تنحنح“ ہے۔
اس کا دارومدار عبدالرحمن بن نجی حضرمی پر ہے، امام بخاری نے اس کے بارے میں کہا: «فِيهِ نَظَرٌ» ”اس میں نظر ہے“ اور دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث: «حسن۔ وللحديث طريق آخر عند احمد 2/ 290»
الحكم على الحديث: حسن