🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

666. -- باب: ما جاء في النفخ في موضع السجود
-- باب: سجدے کی جگہ پر پھونک مارنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ:" أُفْ أُفْ" ثُمَّ قَالَ:" رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ" فَفَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدِ امَّحَصَتِ الشَّمْسُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا نَفْخًا يُشْبِهُ الْغَطِيطَ، وَذَلِكَ لَمَّا عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ تَعْذِيبِ بَعْضِ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْعَذَابُ، فَلَيْسَ غَيْرُهُ فِي التَّأْفِيفِ فِي الصَّلَاةِ كَهُوَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا لَمْ يَكُنْ كَهُوَ فِي رُؤْيَةِ مَا رَأَى مِنْ تَعْذِيبِهِمْ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءٍ فَقَالَ:" وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَلَمْ يَذْكُرِ التَّأْفِيفَ، وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ النَّفْخَ دُونَ التَّأْفِيفِ وَزَعَمَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ قَوْلَهُ أُفْ لَا يَكُونُ كَلَامًا حَتَّى يُشَدِّدَ الْفَاءَ فَتَكُونَ ثَلَاثَةَ أَحْرُفٍ مِنَ التَّأْفِيفِ قَالَ: وَالنَّافِخُ لَا يُخْرِجُ الْفَاءَ فِي نَفْخِهِ مُشَدَّدَةً وَلَا يَكَادُ يُخْرِجَهَا فَاءً صَادِقَةً مِنْ مَخْرَجِهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری سجدوں کے بعد پھونک ماری اور فرمایا: «أُفٍّ أُفٍّ» ”اُف اُف“، پھر فرمایا: ”اے میرے پروردگار! کیا آپ نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک میں ان میں ہوں، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟ کیا آپ نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ تھی؛ اس لیے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان لوگوں کے عذاب کا منظر پیش کیا گیا جن پر عذاب واجب ہو چکا تھا۔ لہٰذا نماز میں «أُفٍّ» ”اف“ کہنے کے معاملے میں کوئی دوسرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں ہے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، جس طرح ان کے عذاب کو دیکھنے میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں تھا۔
عبدالعزیز بن عبدالصمد، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے۔ انہوں نے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کا ذکر نہیں کیا۔
ابواسحاق، سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے «تَأْفِيف» ”تافیف“ کی جگہ «نَفْخ» ”نفح“ کا ذکر کیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ «أُفّ» ”اف“ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک فاء مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب «تَأْفِيف» ”تافیف“ سے تین حرف ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فاء مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وسياتي تخريجه مستو في في كتاب صلاة الكسوف ان شاء الله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ذُو قَرَابَةٍ لَهَا شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ فَقَامَ يُصَلِّي وَيَنْفُخُ، فَقَالَتْ: يَا بُنِيَّ لَا تَنْفُخُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ:" أَيْ رَبَاحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ" كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ نَحْوُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ وَلَمْ أَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.
ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس ان کا ایک قریبی رشتہ دار نوجوان آیا جس کے بال کندھوں تک تھے، وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا اور پھونکنے لگا تو انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! پھونکیں مت مار، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے ایک حبشی غلام کو کہتے ہوئے سنا: ”اے رباح! اپنے چہرے کو مٹی لگا (یعنی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ)۔“
اس کا راوی میمون ابوحمزہ ضعیف ہے۔ اس بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع حدیث بھی مروی ہے، لیکن وہ سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الترمذي 381»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3364
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَلَامًا يَعْنِي النَّفْخَ فِي الصَّلَاةِ ⦗٣٥٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَالنَّفْخُ لَا يَكُونُ كَلَامًا إِلَّا إِذَا بَانَ مِنْهُ كَلَامٌ لَهُ هِجَاءٌ، وَأَمَّا إِذَا لَمْ يُفْهَمْ مِنْهُ كَلَامٌ لَهُ هِجَاءٌ فَلَا يَكُونُ كَلَامًا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ڈرتے تھے کہ ایسا کلام نہ کریں یعنی نماز میں پھونک مارنا۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صرف پھونک کلام نہیں ہوتی البتہ اس سے کوئی ایسا کلام ظاہر ہو جس سے لفظ بنتا ہو۔ اگر اس سے کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو وہ کلام نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 3018»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا سَلَمَةُ الْأَبْرَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نَتَأَذَّى بِرِيشِ الْحَمَامِ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا سَجَدْنَا، فَقَالَ:" انْفُخُوا".
ایمن بن نابل بیان کرتے ہیں کہ میں نے قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم مسجد حرام میں جب سجدہ کرتے ہیں تو حمام کے بالوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: پھونک مار لیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن معين في تاريخ: 3/ 48»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں