🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

676. -- باب: الإشارة فيما ينوبه في صلاته يريد بها إفهاما
-- باب: نماز میں پیش آنے والے کسی معاملے میں اشارہ کرنا جب اس سے سمجھانا مقصود ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3413
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي مَرَضِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَخَلْفَهُ قِيَامٌ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ایام میں بیٹھ کر نماز ادا کی، صحابہ نے بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو آپ نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام صرف اسی لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 656۔ مسلم 412»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3414
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَمَّادٌ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ اجْلِسُوا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، وَرَوَيَاهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ:" فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا".
(ا) دوسری سند سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس قصے کو نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3415
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا" وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر پہنچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے تکبیر کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 413۔ ابوداود 602»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَأَنَّهُمْ رَدُّوهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ⦗٣٧١⦘ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةُ فَقُلْتُ: قَوْمِي لِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلْتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانَا أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا۔۔۔ پھر انہوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا: انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا۔ پس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکعتوں کو نماز عصر کے بعد پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھی اور میرے پاس تشریف لائے، اس وقت انصار میں سے بنو حرام کی چند عورتیں بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو پڑھا تو میں نے ایک لڑکی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طرف کھڑے ہونے کے لیے کہا اور کہا کہ آپ انہیں بتائیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہہ رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا اور اب آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ جانا۔ اس لڑکی نے ویسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہوگئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق دریافت کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ قبیلہ عبدالقیس کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے اپنی قوم کے اسلام کے متعلق بتایا اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مصروف رکھا۔ یہ دو رکعتیں وہی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1176۔ مسلم 834»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3417
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي صَلَاةٍ بِيَدِهِ".
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرلیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وللحديث شواهد مضت في 3401»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3418
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَخُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالُوا: أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہاتھ سے اشارہ کرلیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3418]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3419
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ، قَالَتْ، فَقُلْتُ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، لوگ نماز پڑھ رہے تھے، وہ بھی (نماز میں) کھڑی تھیں، میں نے کہا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا۔ میں نے پوچھا: ”کیا کوئی نشانی ہے؟“ انہوں نے اشارے سے کہا: ”ہاں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3419]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سيأتي تخريجه في كتاب الكسوف ان شاء الله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3420
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ الْمُرِّيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسْوَانِ، وَمَنْ أَشَارَ فِي صَلَاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيُعِدْهَا" قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ: أَبُو غَطَفَانَ: هَذَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَآخِرُ الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ ⦗٣٧٢⦘ فِي الْحَدِيثِ فَلَعَلَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَالصَّحِيحُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ رَوَاهُ أَنَسٌ وَجَابِرٌ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ: وَرَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کے لیے نماز میں «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔ جو شخص نماز میں ایسا اشارہ کرے جس کا کوئی مفہوم تو اشارہ کرنے والا نماز کو لوٹائے۔“
ابوغطفان مجہول راوی ہے اور حدیث کا آخری حصہ حدیث میں اضافہ ہے، شاید یہ ابن اسحاق کا قول ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کر لیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 944»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں