السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
685. -- باب: ما يكون سترة المصلي
-- باب: نمازی کا سترہ کیا چیز ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 3453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 500»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3454
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٨١⦘ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مُخْتَصَرًا.
دوسری سند کے ساتھ اس کی مثل روایت منقول ہے اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن یزید (المقرئ) رحمہ اللہ سے مختصراً روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حواله مذكوره»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3455
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً وَأَبُو صَالِحٍ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ" وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ:" فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِي مَنْ يَمُرُّ وَرَاءَ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقُتَيْبَةَ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو پھر کسی کا گزرنا نقصان دہ نہ ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم: 499»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3456
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھ رہے تھے اور جانور ہمارے سامنے سے گزرتے رہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطور سترہ) ہو تو پھر اسے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہ دے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3457
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ: ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ".
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پالان کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کے برابر یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 686»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ:" مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ: ذِرَاعٌ".
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پالان کی پچھلی لکڑی بازو کے برابر ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3458]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن راهويه 315»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3459
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا ذَهَبَتِ الرِّكَابُ؟ قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ، أَوْ قَالَ: مُؤَخَّرَتِهِ" ⦗٣٨٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری چوڑائی میں بٹھاتے۔ پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ میں نے عرض کیا: جب اونٹ چل رہے ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پالان کی لکڑی کو سامنے سیدھا رکھتے اور اس کی پچھلی لکڑی کی طرف نماز پڑھتے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3459]
(ب) ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3459]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 485»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3460
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ مُعْتَرِضٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" وَقَوْلُهُ: أَفَرَأَيْتَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللهِ لِنَافِعٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَمَّادِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو بَكْرٍ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ:" أَفَرَأَيْتَ" مِنْ كَلَامِ عُبَيْدِ اللهِ لِنَافِعٍ لَا مِنْ كَلَامِ نَافِعٍ لِعَبْدِ اللهِ.
(ا) دوسری سند سے اسی کے مثل روایت منقول ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے لگتا ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں «أَفَرَأَيْتَ» عبیداللہ کا نافع کے لیے کہنا ہو، نہ کہ نافع نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہی ہو، اس وجہ سے کہ ابراہیم بن موسیٰ رحمہ اللہ اور قاسم بن زکریا رحمہ اللہ دونوں نے مجھے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو اونٹ کو اپنے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں رکھتے تھے۔
(ج) قاسم رحمہ اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: ”جب اونٹ چل رہے ہوتے تو پھر کیا کرتے؟“ انھوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اور قبلہ کے درمیان پالان کی پچھلی لکڑی کو رکھ دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3461]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے لگتا ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں «أَفَرَأَيْتَ» عبیداللہ کا نافع کے لیے کہنا ہو، نہ کہ نافع نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہی ہو، اس وجہ سے کہ ابراہیم بن موسیٰ رحمہ اللہ اور قاسم بن زکریا رحمہ اللہ دونوں نے مجھے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو اونٹ کو اپنے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں رکھتے تھے۔
(ج) قاسم رحمہ اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: ”جب اونٹ چل رہے ہوتے تو پھر کیا کرتے؟“ انھوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اور قبلہ کے درمیان پالان کی پچھلی لکڑی کو رکھ دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ حواله مذكوره»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (نماز کے لیے) نکلتے تو برچھی ساتھ لے کر چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ کے سامنے گاڑ دی جاتی، آپ اس کی طرف نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے اور سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے تھے، امیروں نے اسی وجہ سے برچھی ساتھ رکھنے کی عادت بنائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري: 472»
الحكم على الحديث: صحيح