السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
715. -- باب: الدليل على أنه إنما يبزق عن يساره إذا كان فارغا
-- باب: اس بات کی دلیل کہ بائیں طرف اسی صورت میں تھوکا جائے جب وہ جگہ خالی ہو
حدیث نمبر: 3598
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ وَابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ" وَقَالَ بِرِجْلِهِ كَانَ يَحُكُّهُ بِقَدَمِهِ وَرَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَقَالَ: أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.
(ا) طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے اور داہنی طرف نہ تھوک، اگر بائیں طرف خالی ہو تو اس طرف تھوک دے یا اپنے پاؤں کے نیچے۔“
(ب) انہوں نے «بِرِجْلِهِ» کہا، یعنی اپنی ٹانگ کے نیچے اور اسے اپنے پاؤں کے ساتھ رگڑ دے۔
(ج) منصور سے روایت ہے کہ بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3598]
(ب) انہوں نے «بِرِجْلِهِ» کہا، یعنی اپنی ٹانگ کے نیچے اور اسے اپنے پاؤں کے ساتھ رگڑ دے۔
(ج) منصور سے روایت ہے کہ بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3598]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 478»
الحكم على الحديث: صحيح