🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

718. -- باب: من وجد في صلاته قملة فصرها ثم أخرجها من المسجد، أو دفنها فيه أو قتلها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں جوں پائی تو اسے کپڑے میں باندھ لیا پھر اسے مسجد سے باہر نکال دیا، یا اسے وہیں دفن کر دیا یا اسے مار دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَا يَقْتُلْهَا وَلَكِنْ يَصُرَّهَا حَتَّى يُصَلِّيَ" وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ: عَنْ يَحْيَى:" فَلْيَصُرَّهَا حَتَّى يُخْرِجَهَا" يَعْنِي مِنَ الْمَسْجِدِ.
(الف) انصار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دورانِ نماز جوں وغیرہ پائے تو اس کو نہ مارے بلکہ اس کو پکڑ کر رکھے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے۔“
(ب) علی بن مبارک رحمہ اللہ یحییٰ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کو روکے رکھے، پھر اس کو مسجد سے نکال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحارث 135»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا هَنَّادٌ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَصُرَّهَا حَتَّى يُخْرِجَهَا" وَهَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ فِي مِثْلِ هَذَا.
انصار کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں جوں پائے تو اس کو روکے رکھے جب تک اس کو مسجد سے نہ نکال دے۔“
یہ اس جیسے معاملے میں مرسل حسن روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَمْلَةً عَلَى ثَوْبِ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذَهَا فَدَفَنَهَا فِي الْحَصْبَاءِ ثُمَّ قَالَ: {أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا} [المرسلات: ٢٦] ⦗٤١٩⦘ وَيُذْكَرُ نَحْوُ هَذَا عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ يَدْفِنُهَا كَالنُّخَامَةِ وَرُوِّينَا عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ وَالْبَرَاغِيثَ فِي الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَا بَأْسَ بِقَتْلِ الْقَمْلِ فِي الصَّلَاةِ وَلَكِنْ لَا يَعْبَثُ.
(ا) ربیع بن خثیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ایک شخص کے کپڑے پر جوں دیکھی تو اس کو پکڑ کر کنکریوں میں دفن کر دیا، پھر فرمایا: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا * أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾ [سورة المرسلات: 25-26] ”کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا زندوں کو اور مردوں کو۔“
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامر رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3609]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں