السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
751. -- باب: من قال إنما السجدة على من استمعها وروي ذلك عن عثمان بن عفان رضي الله عنه
-- باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ صرف اسی پر ہے جو اسے غور سے سنے، اور یہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
حدیث نمبر: 3768
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ثنا ⦗٤٥٩⦘ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ:" مَرَّ سَلْمَانُ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ السَّجْدَةَ قَالُوا: نَسْجُدُ؟ قَالَ:" لَيْسَ لَهَا غَدَوْنَا".
(ا) حضرت ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو سجدے والی آیت پڑھ رہے تھے۔ لوگوں نے کہا: کیا ہم بھی سجدہ کریں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم اس کے لیے نہیں چلے تھے۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنا اسی پر واجب ہے جو اس کو سننے کے لیے بیٹھا ہو۔
(ج) حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کو سن رہا ہے۔
(د) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھا ہے اور خاموش ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3768]
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنا اسی پر واجب ہے جو اس کو سننے کے لیے بیٹھا ہو۔
(ج) حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کو سن رہا ہے۔
(د) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھا ہے اور خاموش ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 5909»
الحكم على الحديث: صحيح