السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
779. -- باب: من فكر في صلاته أو حدث نفسه بشيء لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کچھ سوچا یا اپنے دل میں کوئی بات کی تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3869
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ الْمِصْرِيُّ ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے اس بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی جو اس کے دل میں وسوسے پیدا ہوں یا جو وہ اپنے دل میں باتیں کرے جب تک کہ اس بات کا تکلم نہ کرلے یا اس پر عمل نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3869]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري2528»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ قَالَ:" ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ" ⦗٤٩٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ رَوْحٍ وَرُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنِّي لَأَحْسِبُ جِزْيَةَ الْبَحْرَيْنِ وَأَنَا قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ".
(ا) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھے اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر باہر نکلے اور لوگوں کے چہروں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنی تیزی سے نکل کر جانے پر تعجب اور حیرانگی کے آثار دیکھ کر فرمایا: ”مجھے نماز میں یاد آیا تھا کہ ہمارے پاس (سونے یا چاندی کی) ایک ڈلی تھی۔ میں پسند نہیں کرتا کہ وہ ایک دن یا رات ہمارے پاس رہے۔ اب میں جا کر اس کو (راہ خدا میں) تقسیم کرنے کا حکم دے آیا ہوں۔“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دورانِ نماز بحرین کے جزیے کا حساب کتاب کر لیا کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3870]
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں دورانِ نماز بحرین کے جزیے کا حساب کتاب کر لیا کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 15718۔ 18933»
الحكم على الحديث: صحيح