🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

794. -- باب: الكلام في الصلاة
-- باب: نماز میں کلام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى ثنا أَبُو قِلَابَةَ يَعْنِي الرَّقَاشِيَّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيِّ وَأَنَا أَسْمَعُ ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنَ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ كُنْتَ تُرَدُّ عَلَيْنَا، قَالَ:" كَفَى بِالصَّلَاةِ شُغُلًا" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے۔ جب ہم ہجرت حبشہ سے واپس آئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے، اب نہیں دے رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1199۔ 1216۔ 3875»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ." وَقَدْ مَضَى فِي ذَلِكَ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَذَلِكَ كُلُّهُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى الْعَمْدِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو بھی ہم انہیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ جانے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلام کرنے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الحميدي 94»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں