السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
829. -- باب: ما يستحب من استعمال ما يزيل الأثر مع الماء في غسل الدم
-- باب: خون دھونے میں پانی کے ساتھ داغ مٹانے والی چیز کے استعمال کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4110
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ تَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ قَالَ:" حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پسلی کی ہڈی سے کھرچ دے، پانی اور بیری کے پتوں سے دھو ڈال۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 6/355-356»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4111
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي كِتَابِي، وَقَالَ غَيْرُهُ آمِنَةُ بِنْتُ أَبِي ⦗٥٧١⦘ الصَّلْتِ وَهُوَ الصَّوَابُ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَكَ فِي وَجْهِكَ هَذَا إِلَى خَيْبَرَ فَنُدَاوِيَ الْجَرْحَى وَنُعِينَ الْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى بَرَكَةِ اللهِ" فَخَرَجْنَا مَعَهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدَثَةً، فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقِيبَةَ رَحْلِهِ فَنَزَلَ إِلَى الصُّبْحِ وَنَزَلْتُ فَإِذَا عَلَى الْحَقِيبَةِ دَمٌ مِنِّي، وَذَلِكَ أَوَّلُ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ وَاسْتَحْيَيْتُ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِي وَرَأَى بِيَ الدَّمَ قَالَ:" لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ وَخُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، فَاغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ وَاغْتَسِلِي، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكِبِكِ" فَكَانَتْ لَا تَطْهُرُ مِنْ حَيْضَتِهَا إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ بِهِ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ".
بنی غفار کی ایک عورت رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بھی آپ کے ساتھ خیبر جانا چاہتی ہیں تاکہ زخمیوں کو دوا دیں اور اپنی طاقت کے مطابق مسلمانوں کی مدد کریں۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلیں اور میں جوان تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے تھیلے یا سامان پر سوار کر لیا۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا، سواری سے اترے، میں بھی سواری سے اترنے لگی تو میں نے سامان پر خون محسوس کیا، یہ میرا پہلا حیض تھا۔ میں سواری پر بیٹھی رہی اور شرم محسوس کر رہی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کو دیکھا تو فرمانے لگے: ”شاید تو حائضہ ہو گئی ہے۔“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی درستگی کرو اور پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ملا لو۔ اس کے ذریعے سامان والا تھیلہ دھو ڈال اور خود بھی غسل کر لے، پھر اپنی سواری پر لوٹ جا۔“ چنانچہ جب بھی ان کو حیض آتا تو وہ پانی اور نمک کے ساتھ طہارت حاصل کرتیں، انہوں نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد غسل بھی نمک اور پانی کو ملا کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 6/380»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4112
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَدْ سَمَّاهَا لِي، قَالَتْ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" وَاغْتَسِلِي".
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4112]
حدیث نمبر: 4113
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ، قَالَتْ:" تَغْسِلُهُ فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ، وَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا".
سیدہ معاذہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کا خون کپڑے کو لگ جانے کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اسے دھو لیا کر، اگر خون کے نشانات زائل نہ ہوں تو اسے زرد رنگ سے تبدیل کر لیا کرو۔“ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھے مسلسل تین مرتبہ حیض آتا اور میں (اس دوران) اپنا کپڑا نہیں دھوتی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 6/250»
الحكم على الحديث: ضعيف