🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

878. -- باب: ذكر المعنى في كراهية الصلاة في أحد هذين الموضعين دون الآخر
-- باب: ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ نماز مکروہ ہونے اور دوسری میں نہ ہونے کی وجہ کے بیان کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4356
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ:" لَا تُصَلُّوا فِيهَا، فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ" وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ:" صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ" حَدِيثُهُمَا سَوَاءٌ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں نماز پڑھ لیا کرو؛ کیونکہ یہاں برکت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4356]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد 493»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4357
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ" كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ" كُنَّا نُؤْمَرُ"، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4357]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4352»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4358
وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْقَاسِمِ السَّرَّاجُ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَتْكُمُ الصَّلَاةُ، وَأَنْتُمْ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا فِيهَا، فَإِنَّهَا سَكِينَةٌ وَبَرَكَةٌ، وَإِذَا أَدْرَكَتْكُمُ الصَّلَاةُ وَأَنْتُمْ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَاخْرُجُوا مِنْهَا فَصَلُّوا فَإِنَّهَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ، أَلَا تَرَى أَنَّهَا إِذَا نَفَرَتْ كَيْفَ تَشْمَخُ بِأَنْفِهَا؟" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ؛ فَإِنَّهَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ" دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا، كَمَا قَالَ حِينَ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ:" اخْرُجُوا بِنَا مِنْ هَذَا الْوَادِي؛ فَإِنَّهُ وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ" فَكَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ قُرْبَ شَيْطَانٍ، وَكَذَا كَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ قُرْبَ الْإِبِلِ؛ لِأَنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ جِنٍّ لَا لِنَجَاسَةِ مَوْضِعِهَا، وَقَالَ فِي الْغَنَمِ:" هِيَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ" قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْحَدِيثُ فِي النَّوْمِ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَدْ مَضَى، وَأَمَّا حَدِيثُهُ فِي الْغَنَمِ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بکریوں کے باڑے میں ہو اور نماز کا وقت ہو جائے تو اس میں نماز پڑھ لو، کیونکہ اس میں سکونت اور برکت ہے اور اگر نماز کا وقت ہو جائے اور تم اونٹوں کے باڑے میں ہو تو وہاں سے نکل جاؤ، کسی اور جگہ نماز پڑھو، یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب وہ بدکتا ہے تو کیسے ناک چڑھاتا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو سعید کی روایت میں فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔“ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اسی طرح منع کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں نماز سے سو گئے تو فرمایا: ”تم اس وادی سے نکلو کیونکہ اس میں شیطان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے قریب نماز کو ناپسند کیا، ایسے ہی اونٹ کے پاس نماز کو ناپسند کیا کیونکہ یہ بھی جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، نہ کہ ان کی جگہ کے ناپاک ہونے کی وجہ سے۔ اور بکریوں کے بارے میں فرمایا: ”یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4359
فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَاسِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ، وَامْسَحُوا رُغَامَهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ" وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا عَلَيْهِ، وَقِيلَ: مَرْفُوعًا، وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ، وَرُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو اور ان کے ناک کی بلغم صاف کر دیا کرو، کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے۔“
حمید بن مالک نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور مرفوعاً بھی بیان کیا گیا ہے، اور موقوف زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4359]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4360
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاجِبٍ، ثنا سَخْتَوَيْهِ بْنُ مَازْيَارَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَيَّانَ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْغَنَمَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ فَامْسَحُوا رُغَامَهَا وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِهَا" ⦗٦٣١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَمَرَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِهَا، يَعْنِي، وَاللهُ أَعْلَمُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ مُرَاحِهَا الَّذِي لَا بَعْرَ وَلَا بَوْلَ فِيهِ قَالَ: وَأَكْرَهُ لَهُ الصَّلَاةَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا قَذَرٌ؛ لِنَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ صَلَّى أَجْزَأَهُ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَمَرَّ بِهِ شَيْطَانٌ فَخَنَقَهُ حَتَّى وَجَدَ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِهِ وَلَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ صَلَاتَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریاں جنتی جانوروں میں سے ہیں، ان کے ناک کی بلغم صاف کر دیا کرو اور ان کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا، یعنی واللہ اعلم اس جگہ میں جس پر ان کے باڑے کا نام بولا جاتا ہو اور اس میں نہ مینگنیاں ہوں نہ پیشاب۔ اور فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہو جائے گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شیطان گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4360]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4361
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، فَضَمَّ يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدِيَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِيَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْلَا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لَارْتُبِطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يُطِيفَ بِهِ وَلَدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" وَقَدْ مَضَى مَعْنَى هَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فرض نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ ملایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! نماز میں کوئی نئی چیز آئی ہے یعنی حکم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ شیطان نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی، میں نے اس کی گردن دبا دی تو اس کی زبان کی ٹھنڈک میں نے اپنے ہاتھ میں محسوس کی۔ اللہ کی قسم! اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا سبقت نہ لے جا چکی ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور صبح مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4361]
تخریج الحدیث: «حسن۔ عبدالرزاق 2338، احمد 20495»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4362
وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو سترہ بنا کر نماز پڑھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 430، مسلم 502»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4363
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَخْبَرَنِي الْمَنْيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّ الْمَنِيعِيَّ قَالَ: إِلَى بَعِيرِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَهَذَا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَلَاةً فِي مَوْضِعِ الْإِبِلِ فَهِيَ صَلَاةٌ قُرْبَ الْإِبِلِ، ثُمَّ كَانَتْ جَائِزَةً لِطَهَارَةِ الْمَكَانِ، كَمَا كَرِهَ الصَّلَاةَ قُرْبَ الشَّيْطَانِ فِي خَبَرٍ آخَرَ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَخَنَقَهُ وَلَمْ يُفْسِدْ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
اگرچہ یہ نماز اونٹوں کے باڑے میں نہیں، لیکن اونٹ کے قریب ہے، پھر بھی یہ جگہ کے پاک ہونے کی وجہ سے جائز تھی، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں شیطان کے قریب نماز پڑھنے کو ناپسند کیا گیا ہے، لیکن جب شیطان حالتِ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گردن دبائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز باطل نہیں ہوئی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں