🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

883. -- باب: ذكر الخبر الذي يجمع النهي عن الصلاة في جميع هذه الساعات
-- باب: اس حدیث کے ذکر کا بیان جو ان تمام اوقات میں نماز کی ممانعت کو جمع کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4385
أنبأ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ عِكْرِمَةُ: وَقَدْ لَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةُ وَوَاثِلَةَ وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبْسَةَ السُّلَمِيُّ: كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، قَالَ: فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي، فَقَدِمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَّاءٌ عَلَيْهِ قَوْمُهُ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ:" أَنَا نَبِيٌّ" فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ:" أَرْسَلَنِي اللهُ" فَقُلْتُ: بِأِيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللهُ لَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ" فَقُلْتُ لَهُ: مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ:" حُرٌّ وَعَبْدٌ" قَالَ: وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ:" إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا، أَلَا تَرَى حَالِي، وَحَالَ النَّاسِ، وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي، فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ كُلَّ مَنْ قَدِمَ مِنَ النَّاسِ ⦗٦٣٨⦘ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ؟ فَقَالُوا: النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ، وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ:" نَعَمْ، أَلَسْتَ الَّذِي أَتَيْتَنِي بِمَكَّةَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللهُ وَأَجْهَلُهُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ:" صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ فَالصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسَجَّرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ تَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ" قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ فَيُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلَبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرُو انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ، فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ؟، فَقَالَ عَمْرٌو: يَا أَبَا أُمَامَةَ، لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجْلَى وَمَا لِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللهِ، وَلَا عَلَى رَسُولِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ، مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِي ذِكْرِ الْوُضُوءِ عِنْدَ قَوْلِهِ:" فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ، وَفِيهِ، وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ" وَكَأَنَّهُ سَقَطَ مِنْ كِتَابِنَا، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں تمام لوگوں کو گمراہ خیال کرتا تھا کہ وہ کسی دین پر نہیں تھے اور بتوں کے پجاری تھے۔ میں نے مکہ میں ایک شخص کے متعلق خبریں سن رکھی تھیں، میں اپنی سواری پر مکہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے تھے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتے تھے۔ میں نرمی اور احتیاط سے کام لیتا ہوا مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نبی ہوں۔“ میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے۔“ میں نے کہا: کیا چیز دے کر اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی اور بتوں کو توڑنا، اکیلے اللہ کو ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس دین پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد اور غلام۔“ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ایمان لائے تھے۔ میں نے کہا: میں بھی آپ کی پیروی کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ابھی اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ میرا اور لوگوں کا کیا حال ہے؟ تم اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ، جب تم سنو کہ میں نے غلبہ پا لیا ہے تو میرے پاس آ جانا۔“ میں گھر واپس پلٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے اور میں اپنے گھر میں ہی لوگوں سے خبریں پوچھتا رہتا تھا، یہاں تک کہ مدینہ والوں کا ایک گروہ آیا۔ میں نے کہا: اس شخص نے کیا کیا ہے جو مدینہ میں آیا ہے؟ انہوں نے کہا: لوگ اس کی طرف جلدی کر رہے ہیں اور اس کی قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا لیکن وہ اس کی طاقت نہ پا سکے، پھر میں مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو وہی نہیں جو مجھے مکہ میں ملا تھا؟“ میں نے کہا: آپ مجھے اس چیز کی خبر دیں جو میں نہیں جانتا اور آپ کو اللہ نے سکھائی ہیں، مجھے نماز کے متعلق بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کی نماز پڑھ، پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں، پھر نماز پڑھ، جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہو جائے، پھر نماز سے رک جا کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ جب سایہ بڑھ جائے تو نماز پڑھ، یہ بھی ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھے۔ پھر تو نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو آدمی وضو کا پانی قریب کرتا ہے پھر کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھانے کے بعد ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک، چہرے اور داڑھی کے گناہ پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں سے بھی خطائیں جھڑ جاتی ہیں، پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو مسح کرنے کی وجہ سے اس کے بالوں سے پانی کے ذریعے گناہ مٹ جاتے ہیں، پھر وہ پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کی انگلیوں کے پوروں سے خطائیں بہہ جاتی ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر نماز میں اللہ کی حمد و ثنا اور تمجید بیان کرتا ہے جس کے وہ لائق ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر لیتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے جس طرح کہ اس کی ماں نے اس کو آج ہی جنم دیا ہے۔“ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو بیان کی تو وہ کہنے لگے: دیکھو تم ایک ہی جگہ یہ کہہ رہے ہو کہ آدمی کو یہ کچھ دیا جائے گا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابو امامہ! میری عمر بڑھ گئی، میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں، میری موت قریب آگئی، مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں؟ اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک، دو، نہیں بلکہ سات بار تک نہ سنا ہوتا تو میں کبھی بیان نہ کرتا، میں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مرتبہ سنی ہے۔
(ب) نضر بن محمد نے کچھ الفاظ زائد ذکر کیے ہیں کہ جب انسان پانی سے ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک اور چہرے کی ساری غلطیاں پانی کے ساتھ نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ حکمِ الٰہی کے ساتھ چہرہ دھوتا ہے تو اس کی خطائیں چہرے اور داڑھی کے اطراف سے نکل جاتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 16571، مسلم 832»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4386
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ:" جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ ⦗٦٣٩⦘ الشَّمْسُ، وَتَرْتَفِعَ قَيْسَ رُمْحٍ، أَوْ رُمْحَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى يُعْدَلَ الرُّمْحُ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ؛ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، فَتُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ" قَالَ: وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلًا.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کے کس حصہ میں (دُعا) زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں۔ نماز پڑھ جتنی تو چاہے۔ کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیں، پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جاؤ جب تک سورج ایک یا دو نیزے بلند ہو جائے، وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھ جتنی تو چاہے، کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر نماز سے رک جا؛ کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جب سورج ڈھل جائے تو جتنی چاہو نماز پڑھو۔ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو۔ پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4386]
تخریج الحدیث: «ابن خزيمه 260»

الحكم على الحديث: ابن خزيمه 260
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4387
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ يُكْرَهُ الصَّلَاةُ فِيهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَسْتَوِيَ الشَّمْسُ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ، فَإِذَا اسْتَوَتْ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلَاةَ؛ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسَجَّرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ عَنْ جَانِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَالصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" وَرَوَاهُ عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُسَمِّ السَّائِلَ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ" ثُمَّ الصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایسے معاملہ کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں کہ آپ اسے جانتے ہیں اور میں نہیں جانتا، کیا رات اور دن میں ایسے اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنا ممنوع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب تو فجر کی نماز پڑھ لے تو سورج کے طلوع ہونے تک نماز چھوڑ دے کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ یہ ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ مقبول ہے، پھر جب سورج تیرے سر پر نیزے کی طرح بلند ہو جائے تو نماز سے رک جا؛ کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے کھولے جاتے ہیں یہاں تک کہ سورج تیری دائیں جانب بلند ہو جائے، جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھ، اس میں بھی فرشتے موجود ہوتے ہیں یہاں تک کہ تو عصر کی نماز پڑھ لے، پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4387]
تخریج الحدیث: «منكر۔ قال الدارقطني في العلل 1466»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں