السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
984. -- باب: ذكر الخبر الذي ورد في الأعمى سمع النداء ومن لم يرخص في ترك الحضور، ومن رخص فيه في غير الجمعة
-- باب: اس حدیث کا تذکرہ جو اس نابینا شخص کے بارے میں وارد ہوئی ہے جس نے اذان سنی، اور اس شخص کا بیان جس نے جماعت میں حاضر نہ ہونے کی رخصت نہیں دی، اور جس نے جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں میں اس کی رخصت دی ہے۔
حدیث نمبر: 4991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَرْوَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَلَفْظُهُ هَذَا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ:" هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟" فَقَالَ لَهُ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَجِبْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَسُوَيْدٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
یزید بن اصم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے مسجد لانے والا کوئی نہیں، اس نے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی۔ جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا اور پوچھا: ”کیا اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مسجد میں آ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4991]
تخریج الحدیث: «تقدم برقم 4946»
الحكم على الحديث: تقدم برقم 4946