السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
998. -- باب: ما روي في صلاة المأموم جالسا إذا صلى الإمام جالسا
-- باب: اس روایت کا بیان کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 5072
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ کہے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» تو تم «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 678»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْعَزَائِمِيُّ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فَكَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ لِيُسْمِعَنَا، فَبَصُرَ بِنَا قِيَامًا، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ لِعُظَمَائِهِمْ، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، فَإِنْ صَلُّوا قِيَامًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلُّوا جُلُوسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا". لَفْظُ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، وَزَادَ دَاوُدُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيُسْمِعَنَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ فِيهِ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ.
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی تکبیر کہی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ وہ ہمیں سنوا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھڑے ہوئے دیکھا تو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب نماز پوری کی تو فرمایا: ”قریب ہے کہ تم بھی وہی کام کرو جو فارس و روم والے اپنے بڑوں کے لیے کرتے تھے۔ تم اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو۔ اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
(ب) داؤد کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ابوبکر بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنوا دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5073]
(ب) داؤد کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو ابوبکر بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنوا دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5073]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 413»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5074
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" صُرِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَقَعَدَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي تَطَوُّعًا، فَصَلَّى قَاعِدًا وَنَحْنُ ⦗١١٤⦘ قِيَامٌ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي صَلَاةً مَكْتُوبَةً قَاعِدًا، قَالَ: فَقُمْنَا، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ قَالَ:" ائْتَمُّوا بِالْإِمَامِ، إِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلَا تَفْعَلُوا كَمَا تَفْعَلُ فَارِسَ لِعُظَمَائِهَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹخنا نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیٹھ گئے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کے لیے آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ نفل نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے اور ہم کھڑے تھے۔ پھر ہم آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: ”تم اپنے امام کی پیروی کرو۔ اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور تم ایسا نہ کرو جیسے فارسی اپنے بڑوں کے لیے کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5074]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ماقبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5075
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَؤُمَنَّ أَحَدٌ بَعْدِي جَالِسًا". قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ..
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے۔“
علی بن عمر (دارقطنی) فرماتے ہیں: اسے جابر جعفی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور وہ متروک ہے۔ اور یہ حدیث مرسل ہے، اس سے دلیل قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5075]
علی بن عمر (دارقطنی) فرماتے ہیں: اسے جابر جعفی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور وہ متروک ہے۔ اور یہ حدیث مرسل ہے، اس سے دلیل قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5075]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحارث في مسند 147»
الحكم على الحديث: منكر