السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. -- باب: إذا استووا في الفقه والقراءة أمهم أكبرهم سنا
-- باب: جب لوگ فقہ اور قراءت میں برابر ہوں تو ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں عمر کے لحاظ سے سب سے بڑا ہو
حدیث نمبر: 5293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدُ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهَالِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ" وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا،" وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنِ الثَّقَفِيِّ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم ایک جیسے نوجوان تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس راتیں ٹھہرے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہایت مہربان اور نرم دل تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ ہم اپنے گھروں کو جانے کا شوق رکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے، ہم نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں لوٹ جاؤ، ان میں رہو، ان کو تعلیم دو اور ان کو حکم دو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اشیاء ذکر کیں، بعض کو تو میں نے یاد رکھا اور بعض کو بھول گیا، (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ” «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ”تم نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے“، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے اور تمہارا بڑا جماعت کروائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5293]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 602»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، وَمَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ⦗١٧٢⦘ حُوَيْرِثٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ:" إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ قَالَ: كُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.
(الف) سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یا اس کے کسی ساتھی کو فرمایا: ”جب اذان کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہہ دے، پھر تکبیر کہی جائے اور تمہاری امامت تم میں سے بڑا کروائے۔“
(ب) مسلمہ کی حدیث میں ہے کہ ان دنوں ہم دونوں علم میں ایک جیسے نوجوان تھے۔
(ج) اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا: تو پھر قرأت کا کیا؟ کہنے لگے: وہ دونوں قرأت میں بھی قریب قریب تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5294]
(ب) مسلمہ کی حدیث میں ہے کہ ان دنوں ہم دونوں علم میں ایک جیسے نوجوان تھے۔
(ج) اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا: تو پھر قرأت کا کیا؟ کہنے لگے: وہ دونوں قرأت میں بھی قریب قریب تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5294]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 4998»
الحكم على الحديث: صحيح