السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1053. -- باب: الصلاة بأمر الوالي
-- باب: حاکم کے حکم سے نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 5306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّلَاةِ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ"، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيحَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ التُفِتَ إِلَيْهِ، فَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ". ⦗١٧٥⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی طرف صلح کی خاطر گئے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے کہ میں اقامت کہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“، آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور لوگ نماز میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صفوں کو) جدا کرتے ہوئے آئے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ پھر لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں التفات نہیں کرتے تھے۔ جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے التفات کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے اور اللہ کی حمد بیان کی، اس بات پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! کس چیز نے آپ کو منع کیا کہ آپ اپنی جگہ پر ثابت رہیں؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یہ بات ابن ابی قحافہ کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں بہت زیادہ تالیاں بجاتے دیکھتا ہوں؟ جب کوئی مسئلہ نماز میں پیش آئے تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہا کرو، کیونکہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کی وجہ سے اس کی جانب التفات کیا جائے گا اور تالیاں بجانا تو عورتوں کا کام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5306]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5254»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ لِبِلَالٍ:" إِذَا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِكَ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَقَدَّمَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِي آخِرِهِ:" إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ لِبِلَالٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ حَفِظَهَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالزِّيَادَةُ فِي مِثْلِهِ مَقْبُولَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان لڑائی ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کے لیے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں تمہارے پاس نہ آؤں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہنا کہ وہ نماز پڑھائیں۔“ جب عصر کا وقت ہوا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ پھر اقامت کہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا، وہ آگے بڑھے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ”جب نماز میں کوئی چیز پیش آئے تو مردوں کے لیے «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا اور عورتوں کے لیے تالیاں بجانے کا حکم ہے۔“
اس حدیث میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ایک اضافہ ہے جسے حماد بن زید نے محفوظ رکھا ہے، اور اس جیسی صورت میں اضافہ مقبول ہوتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5307]
اس حدیث میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ایک اضافہ ہے جسے حماد بن زید نے محفوظ رکھا ہے، اور اس جیسی صورت میں اضافہ مقبول ہوتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5307]