🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1080. -- باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة
-- باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَنْ تَقْصُرُوا} [النساء: ١٠١] مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ، قَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ عَلَيْكُمْ بِهَا، فَاقْبَلُوهَا".
یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ﴾ [سورة النساء: 101] ”نماز قصر کرو اگر تمہیں فتنہ کا ڈر ہو“؟ انہوں نے فرمایا: میں بھی حیران ہوا تھا جیسے آپ حیران ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہارے اوپر کیا ہے اس کو قبول کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5378»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5420
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} [النساء: ١٠١] وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَمَا شَأْنُ التَّقْصِيرِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هِيَ؟ فَقَالَ:" هِيَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ". كَذَا قَالَ ابْنُ بَابَاهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ كَمَا مَضَى وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَيْهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَزَعَمَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَنَّهُ ثَلَاثَةٌ: ابْنُ بَابِيٍّ، وَابْنُ بَابَا، وَابْنُ بَابَيْهِ، وَالَّذِي يَرْوِي عَنْهُ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَابَيْهِ، وَذَهَبَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ إِلَى أَنَّهُمْ وَاحِدٌ وَهُوَ مَكِّيٌّ، وَعَلَى مِثْلِ قَوْلِهِ دَلَّ كَلَامُ الْبُخَارِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [سورة النساء: 101] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز کو قصر کرو اگرچہ تمہیں خوف ہو کہ کافر لوگ فتنہ میں ڈال دیں گے“ لوگ تو امن میں ہیں پھر قصر کیسی؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں بھی تیری طرح حیران ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہارے اوپر کیا ہے تم اس کو قبول کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5420]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5378»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5421
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَدَلَّ قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ الْقَصْرَ فِي السَّفَرِ بِلَا خَوْفٍ صَدَقَةٌ مِنَ اللهِ، وَالصَّدَقَةُ رُخْصَةٌ لَا حَتْمٌ مِنَ اللهِ أَنْ يَقْصُرُوا، وَدَلَّ عَلَى أَنْ يَقْصُرُوا فِي السَّفَرِ بِلَا خَوْفٍ إِنْ شَاءَ الْمُسَافِرُ، وَإِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَمَّ فِي السَّفَرِ وَقَصَرَ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے کہ ”سفر میں بلا خوف قصر کرنا یہ اللہ کا صدقہ ہے“، نماز کا قصر کرنا لازم نہیں اور سفر میں بلا خوف قصر اگر مسافر چاہے تو کر لے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح نماز پڑھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5421]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ كتاب الام 3/141»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5422
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْمَحَامِلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ، وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ". قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَلِهَذَا شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ وَطَلْحَةِ بْنِ عَمْرٍو، وَكُلُّهُمْ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح پڑھتے تھے اور روزہ رکھتے اور افطار بھی کرتے۔
علی (دارقطنی) نے کہا: یہ سند صحیح ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کے شواہد دلہم بن صالح، مغیرہ بن زیاد اور طلحہ بن عمرو کی روایات میں ہیں اور یہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الدار قطني 2/189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5423
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجْنَا إِلَى مَكَّةَ أَرْبَعًا حَتَّى نَرْجِعَ".
عطا رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کا سفر کرتے تو واپس آنے تک نماز چار رکعات پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5424
فَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْكُدَيْمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَيُتِمُّ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ مُغِيرَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح پڑھ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5424]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم برقم 5432»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5425
فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَتَمَّ وَقَصَرَ، وَصَامَ وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ". وَقَدْ قَالَ: عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ الْمُرْهِبِيُّ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر کرتے اور کبھی مکمل نماز بھی پڑھ لیتے، اور روزہ رکھتے اور کبھی افطار بھی فرما لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5426
أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ،" أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ الْمَكْتُوبَةَ أَرْبَعًا". وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَيْبَانَ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ كَالْمُوَافِقِ لِرِوَايَةِ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، وَإِنْ كَانَ فِي رِوَايَةِ دَلْهَمٍ زِيَادَةُ سَنَدٍ، وَلِسَنَدِهِ شَاهِدٌ قَوِيٌّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ..
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں فرض نماز چار رکعات پڑھا کرتی تھیں۔
یہ روایت دلہم بن صالح کی روایت کے موافق ہے، اگرچہ دلہم کی روایت میں سند کا ایک واسطہ زیادہ ہے، اور اس کی سند کا ایک قوی شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5426]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5427
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، قَالَ، وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں عمرہ کے لیے گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ النسائي 1456»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5428
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّبَّعِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ، وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ، فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَى مَكَّةَ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ، وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، قَالَ:" أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ". وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ". قَالَ عَلِيٌّ: الْأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ.
عبد الرحمن بن اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا۔ جب میں مکہ واپس آئی تو میں نے کہا: ”میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی جبکہ میں نے مکمل پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
علی (دارقطنی) نے کہا: پہلی روایت متصل ہے اور یہ سند حسن ہے، عبدالرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا ہے اور وہ قریب البلوغ عمر میں ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5428]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں