السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1215. -- باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين
-- باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
حدیث نمبر: 6025
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفَلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلَنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرْتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا، سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ". لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ مِنَ الزِّيَادَةِ" فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلَاحَ وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلُوهُمْ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبِّرُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرٍ فَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ مُجَاهِدٍ مِنْ أَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(الف) سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے اور مشرکین کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ”ہم سے غفلت ہو گئی، اگر ہم ان پر حملہ کر دیتے جب وہ حالتِ نماز میں تھے“، تو ظہر و عصر کے درمیان قصر والی آیت نازل ہو گئی۔ جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ان سب نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور دوسری صف کھڑی پہرہ دے رہی تھی۔ جب پہلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے تھے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹی دوسری صف کی جگہ اور دوسری صف آگے بڑھی پہلی صف کی جگہ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے، یعنی پہلی صف اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی بیٹھ گئے تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب بیٹھ گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم میں یہ نماز پڑھائی۔
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6025]
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6017»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6026
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيُّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" شَهِدْتُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامُوا انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَوْا سُجُودَهُمْ وَقَامُوا تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ انْحَدَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الْمُقَدَّمُ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، فَلَمَّا قَضَى السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدُوا". قَالَ جَابِرٌ:" كَمَا يَصْنَعُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ"..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنائیں۔ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا۔ ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف نے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انہوں نے اپنے سجدے پورے کر لیے اور کھڑے ہوئے تو پچھلی صف آگے بڑھی اور پہلی صف پیچھے آگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور پہلی صف بھی سجدہ میں چلی گئی جو پہلی رکعت میں پیچھے تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ پورا کیا اور پہلی صف نے بھی تو پھر دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ انہوں نے سجدے پورے کیے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے محافظ امیروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6026]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے محافظ امیروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6026]
تخریج الحدیث: «مسلم 840»
الحكم على الحديث: مسلم 840
حدیث نمبر: 6027
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي: ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. وَزَادَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا". قَالَ جَابِرٌ:" كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَذَا بِأُمَرَائِهِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم سب نے بھی سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے شاہی محافظ اپنے امراء کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جَبْرَئِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالُوا: إِنَّهُ سَيَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْأَوْلَادِ، يَعْنِي: الْعَصْرَ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَفَّنَا صَفَّينِ، وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلِ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي، فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَقَامَ الثَّانِي، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ:" كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلَاءِ". ⦗٣٦٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جہینہ سے غزوہ کیا اور لڑائی انتہائی سخت تھی۔ جب ہم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین کہنے لگے: اگر ہم یک بارگی ان پر حملہ کریں اور ان کو کاٹ ڈالیں، تو اس کی خبر جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ ہمارے ساتھ کیا کہ ”وہ کہتے ہیں کہ عنقریب ایک نماز آئے گی جو ان کو ان کی اولادوں سے بھی زیادہ محبوب ہے“۔ جب نماز کا وقت ہوا تو ہم نے دو صفیں بنائیں اور مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا اور پہلی صف پیچھے آ گئی اور دوسری صف آگے بڑھی۔ وہ پہلی کی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، پھر دوسری صف نے سجدہ کیا۔ پھر وہ سارے بیٹھے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے امراء نماز ادا کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6028]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما سبوح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6029
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:" قَامَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، فَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ يُكَبِّرُونَ، وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا"..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر وہ پیچھے ہٹے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کا پہرہ دیا، پھر دوسرے گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع و سجود کیے، سارے لوگ نماز میں تھے، وہ تکبیر کہہ رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کا پہرہ دے رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6029]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 902»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6030
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهَذَا مَا رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ فِي هَذَا الْبَابِ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُبَيَّنًا.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6030]
حدیث نمبر: 6031
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقَطِيعِيُّ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْ بَاهِلِيُّ، قَالُوا ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّينِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، الصَّفَّانِ كِلَاهُمَا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَثَبَتَ الْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ وَقَامَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا، فَسَجَدُوا سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا، فَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ الَّذِي يَلِيهِ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَثَبَتَ الْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا قَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز خوف کا حکم دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم سب نے یعنی دونوں صفوں نے اکٹھے رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ اپنے بھائیوں کا پہرہ دے رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہو گئے تو پھر پچھلی صف والوں نے سجدے کیے۔ پھر وہ کھڑے ہو گئے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب نے رکوع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسری صف والے کھڑے رہے، وہ اپنے بھائیوں کا پہرہ دے رہے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے، پھر دوسری صف والوں نے سجدہ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6031]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ الدار قطني 2/58»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6032
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا ⦗٣٦٨⦘ كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ، أَظُنُّهُ قَالَ: عَقِبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمِيعٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف ایسے ہی تھی، جیسے آج کل تمہارے محافظوں کی نماز ہے، اپنے اماموں کے پیچھے۔ ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوتا اور وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ہیں تو وہ گروہ جو کھڑا تھا خود سجدے کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرماتے تو وہ سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرماتے تو وہ بھی سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ لوگ سجدہ کرتے جو پہلی مرتبہ کھڑے رہے اور وہ لوگ کھڑے رہے جنہوں نے پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور وہ لوگ جنہوں نے آخری نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا، انہوں نے سجدہ کیا جو کھڑے رہے۔ پھر وہ بیٹھے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام میں دونوں گروہوں کو جمع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6032]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 1/265»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ