🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1218. -- باب: من قال في هذا: كبر بالطائفتين جميعا، ثم قضى كل طائفة ركعتها الباقية مناوبة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے اس بارے میں کہا کہ امام دونوں گروہوں کو ایک ساتھ تکبیر کہلوائے، پھر ہر گروہ باری باری اپنی باقی ماندہ رکعت پوری کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6044
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ ⦗٣٧١⦘ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَفْنَا صَفَّينِ، صَفٌّ خَلْفَ، وَصَفٌّ مُوَاجِهَ الْعَدُوِّ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفَّينِ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى مَقَامِ إِخْوَانِهِمْ، وَأَقْبَلَ الْآخَرُونَ يَتَخَلَّلُونَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلُّوا الَّذِينَ خَلْفَهُ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى مَصَافِّهِمْ، وَأَقْبَلَ الْآخَرُونَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ". قَالَ خُصَيْفٌ:" وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْعَدُوِّ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ خُصَيْفٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: صَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَكُلٌّ فِي صَلَاةٍ. وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا". وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، أَبُوعُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ، وَخَصِيفٌ الْجَزَرِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی تو ہم نے دو صفیں بنائیں۔ ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں صفوں کے ساتھ تکبیر کہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صف کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے۔ پھر یہ اپنے دوسرے بھائیوں کی جگہ چلے گئے، دوسرے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکوع اور دو سجدے کروائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، انہوں نے ایک رکعت نماز پڑھی۔ پھر وہ اپنی صف میں چلے گئے۔ پھر دوسرے آئے انہوں نے ایک رکعت پڑھی۔ خصیف فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن اور قبلہ کے درمیان تھے۔ ثوری خصیف سے نقل فرماتے ہیں: ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی اور تمام لوگ نماز میں ہی ہوتے تھے۔ شریک خصیف سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو دونوں صفوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر کہی۔
یہ حدیث مرسل ہے، ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا، اور خصیف جزری قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6044]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1244»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6045
" وَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي" أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْخَوْفِ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح نماز پڑھائی، مگر یہ کہ جس گروہ کو انہوں نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا تو وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے، اور یہ لوگ آئے اور انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی، پھر وہ ان کی جگہ لوٹ گئے تو انہوں نے خود ایک رکعت پڑھی۔ حبیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا تو انہوں نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6045]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم 6007»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں