🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1220. -- باب: من قال: قضت الطائفة الثانية الركعة الأولى عند مجيئها، ثم صلت الأخرى مع الإمام، ثم قضت الطائفة الأولى الركعة الثانية، ثم كان السلام
-- باب: اس شخص کا قول کہ دوسرا گروہ آنے پر اپنی پہلی رکعت پوری کرے، پھر دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھے، پھر پہلا گروہ اپنی دوسری رکعت پوری کرے، پھر سلام پھیرا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6056
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ قَالَ مَرْوَانُ: مَتَى؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبِّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى، وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً رَكْعَةً". كَذَا قَالَ وَالصَّوَابُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ. أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا: ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. وَهَذَا بَيِّنٌ فِي تَفْسِيرِ الْحَدِيثِ وَلَعَلَّهُ أَرَادَ رَكْعَةً رَكْعَةً مَعَ الْإِمَامِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
(الف) مروان بن حکم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں! مروان نے پوچھا: کب؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غزوہ نجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عصر کے لیے کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوا اور دوسرا دشمن کے مقابل اور ان کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ان سب نے بھی تکبیر کہی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہ جو دشمن کے مقابل تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا اور انہوں نے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور دوسرے دشمن کے مقابل کھڑے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وہ گروہ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ اب یہ دشمن کے سامنے کھڑے ہوئے اور جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے وہ آ گئے۔ انہوں نے رکوع و سجود کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا رکوع کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر وہ گروہ آیا جو دشمن کے سامنے کھڑا تھا، انہوں نے رکوع و سجود کیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور جو ان کے ساتھ تھے انہوں نے بھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان سب نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت تھی۔
(ب) اس میں تفسیر ہے کہ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6056]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 1240»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6057
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَدَعَ النَّاسُ صَدْعَيْنِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَائِفَةٌ تِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ وَقَامُوا مَعَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَى قَائِمًا رَجَعَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَرَاءَهُمُ الْقَهْقَرَى، فَقَامُوا وَرَاءَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّى بِهِمْ ⦗٣٧٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْرَى فَكَانَتْ لَهُمْ وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسُوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ بِهِمْ جَمِيعًا". كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. مَعَ اخْتِلَافٍ فِي لَفْظِ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، لَيْسَ ذَلِكَ فِي لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَمَا رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَهُ أَبُو الْأَزْهَرِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی تو ان کے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں ان کو دو سجدے کروائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے تو وہ الٹے پاؤں لوٹے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ وہ ان لوگوں کے پیچھے کھڑے ہو گئے جو دشمن کے سامنے تھے۔ اب دوسرا گروہ آ گیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے اپنی ایک رکعت پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے۔ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت پڑھائی۔ یہ ان کی پہلی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری۔ پھر وہ دشمن کے سامنے ہو گئے۔ انہوں نے اپنی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کیے۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہے۔ پھر ان سب نے سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6057]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6058
فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَصَدَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَصُفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ الثَّانِيَةِ، وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا، لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا". حَدِيثُهُمَا سَوَاءٌ فِي الْمَعْنَى وَقَدْ تَزِيدُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى بِكَلِمَةٍ أَوْ نَحْوِهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ذات الرقاع میں نمازِ خوف پڑھائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تو ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا تو انہوں نے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے۔ پھر انہوں نے دوسری رکعت پڑھی اور وہ کھڑے ہوئے پھر اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں چلے یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی۔ پھر انہوں نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ پھر انہوں نے رکوع کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا۔ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، یہ تمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخفیف میں کوتاہی نہیں کی۔ اپنی طاقت کے مطابق ہلکی نماز پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو انہوں نے بھی سلام پھیرا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور یقیناً لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام نماز میں شریک رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6058]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 6/275»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں