🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1233. -- باب: ما ينهى عن المراكب
-- باب: کن سواریوں (یا زینوں) سے منع کیا گیا ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:" نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا" لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أِيِّ الثِّنْتَيْنِ،" وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ قَالَ:" فَأَمَّا الْقَسِّيُّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ، وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الْأُرْجُوَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ ”میں ان میں انگوٹھی پہنوں“، عاصم فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سی دو انگلیاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قسی کپڑا پہننے سے بھی منع فرمایا اور ریشمی زین پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا“، قسی دھاری دار کپڑا تھا، جو مصر و شام سے آیا کرتا تھا اور میاثر سے مراد وہ کپڑا جو عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے زین کے طور پر استعمال کرتی تھیں جیسے سرخ رنگ کی چادریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6118]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2078»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6119
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٣٩٢⦘ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْقَسِّيَّةِ، وَالْمِيثَرَةِ"، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ:" ثِيَابٌ أَتَيْنَا مِنَ الشَّامِ أَوْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا حَرِيرٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، وَالْمِيثَرَةُ شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ أَمْثَالُ الْقَطَائِفِ يَضَعُونَهَا عَلَى الرِّحَالِ". قَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمَيَاثِرُ كَانَتْ مِنْ مَرَاكِبِ الْأَعَاجِمِ مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ. وَقَالَ غَيْرُهُ: الْمِيثَرَةُ جُلُودُ السِّبَاعِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی اور میثرہ سے منع فرمایا۔ ابوبردہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «القَسِيُّ» ”قسی“ کپڑا کیا ہے؟ فرمایا: وہ کپڑا جو شام و مصر سے ہمارے پاس آتا تھا، اس میں ریشم بھی موجود تھا جس میں ترنج جیسے نقش ہوتے تھے اور «المِيثَرَةُ» ”میثرہ“ سے مراد وہ کپڑا ہے جو عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے تیار کرتی ہیں، جیسے چادریں ہوتی ہیں جنہیں زین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6119]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 4225»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النِّمَارِ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا". وَرَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ فِي رُكُوبِ النِّمَارِ. وَرَوَاهُ أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ فِي رُكُوبِ النِّمَارِ وَفِي الذَّهَبِ.
(الف) سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”منع فرمایا کہ چیتے کی کھال کی بنی ہوئی زین پر سواری کی جائے اور سونا پہننے سے بھی منع فرمایا، مگر ٹکڑوں میں نہیں۔“
(ب) ابو شیخ ہنائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”چیتے کی کھال اور سونے کی زین پر سواری سے منع فرما دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6120]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 4239»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6121
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ، وَأَبُو زَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالُوا: ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ، سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو عَامِرٍ الْمَعَافِرِيُّ نُصَلِّي بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاضِيهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى نَاحِيَتِهِ، فَسَأَلَنِي: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ قُلْتُ لَهُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ، عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَمُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَيَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَرُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ".
عیاش بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حصین ہیثم بن شفی رحمہ اللہ سے سنا کہ میں اور ابو عامر معافری رضی اللہ عنہ نے ایلیا جگہ میں نماز پڑھی۔ ان کے قاضی ازد قبیلہ سے تھے۔ ان کو ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔ ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرا ساتھی مسجد کی طرف مجھ سے پہلے چلا گیا۔ پھر میں نے اس کو پا لیا، وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا تو نے ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کے قصہ کو پایا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: میں نے اس سے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے: ”ایک دانت باریک کرنے سے، دوسری سرمہ بھرنے سے، تیسرا بال اکھاڑنے سے اور آدمی کا آدمی کے ساتھ بغیر کپڑے کے لیٹنے سے، اسی طرح عورت کا، اور اس سے کہ آدمی اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشم لگائے اور اپنے کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشم لگانے سے اور ڈاکہ ڈالنے، چیتے کی کھال کی زین پر سواری کرنے سے اور انگوٹھی صرف بادشاہ کے لیے ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الخَوْفِ/حدیث: 6121]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 4049»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں