🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1260. -- باب: أمر الإمام الناس في خطبته بطاعة الله عز وجل وحضهم على الصدقة والتقرب إلى الله سبحانه، والكف عن معصيته
-- باب: امام کا اپنے خطبے میں لوگوں کو اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم دینا اور انہیں صدقہ کرنے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی ترغیب دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6220
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَهُمْ، وَذَكَّرَهُمْ، وَمَضَى مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ، فَأَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ؛ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ"، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ"، فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ خَوَاتِمِهِنَّ، وَقَلَائِدِهِنَّ، وَأَقْلِبَتِهِنَّ، يَعْطِينَهُ بِلَالًا يَتَصَدَّقْنَ بِهِ". ⦗٤٢٢⦘.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور ان کو وعظ و نصیحت کی۔ اسی طرح سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا: ”تم صدقہ کیا کرو؛ کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے“ تو ایک ادنیٰ درجہ کی عورت سیاہ رخساروں والی کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بہت زیادہ شکوہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری۔“ عورتیں اپنی انگوٹھیاں، ہار اور بالیاں اتارنا شروع ہوئیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ العِيدَيْنِ/حدیث: 6220]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6198»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6221
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ مِنْ مَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ، فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللهِ، وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ، وَوَعَظَ النَّاسَ، وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ، يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرَاطِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
عبدالملک بن ابی سلیمان اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا، اطاعت پر ابھارا اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر عورتوں کے پاس آئے، اس حدیث کے آخر میں ہے کہ عورتیں اپنے زیور، بالیاں اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ العِيدَيْنِ/حدیث: 6221]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6198»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں